آسٹریلوی خاتون ایمی لوئی نے اپنے بیٹے فینکس کی سالگرہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں تو ایک طوفان برپا ہو گیا۔

برسبن(نیوز ڈیسک) والدین اپنے بچوں کی سالگرہ کی تصاویر بہت شوق سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتے ہیں لیکن کچھ عرصہ قبل جب دراصل یہ تصاویر تھیں ہی ایسی کہ کوئی بھی دیکھنے والا اپنے جذبات پر قابو نا رکھ سکا۔ ان تصویروں میں ننھا بچا انسانی دماغ کھاتا نظر آتا ہے جبکہ اس کے ہاتھ اور چہرہ خون آلود ہے۔
جب یہ تصاویر انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئیں تو دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین نے ایمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دراصل ایمی نے سالگرہ کا کیک انسانی دماغ کی شکل کا بنوایا تھا، جسے ننھا فینکس وحشیانہ انداز میں کھاتا نظر آیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ایمی نے ننھے بچے کی سالگرہ منانے کا جو انداز اپنایا وہ بہت ہی برا تھا، لیکن ایمی نے ایسا عجیب و غریب کام کیوں کیا؟
ڈیلی میل آسٹریلیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے بچے کی سالگرہ ایسے انداز میں منانے کی وجہ بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب ایک سال قبل میرے بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ بے حس و حرکت تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا دل نہیں دھڑک رہا تھا لیکن وہ اس کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔اسے بے جان دیکھ کر میری سب امیدیں ٹوٹ گئی تھیں۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ’میرا بچہ مر گیا ہے؟‘ اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وہ دنیا سے جا چکا تھا اور میرے لئے جیسے ہر طرف اندھیرا ہو گیا تھا۔ پھر مجھے ایک نرس کی آواز سنائی دی ’یہ واپس آ گیا ہے!‘ اس کے ساتھ ہی مجھے وہاں موجود سب لوگوں کی جوش سے بھری آوازیں سنائی دیں ۔میرا بچہ واپس آ گیا تھا۔ میں یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ زندہ لاش سے ایک جیتا جاگتا بچہ بن گیا تھا۔ ‘‘
ایمی نے بتایا کہ وہ اور ان کا شوہر جیری اس واقعے کی وجہ سے اپنے بچے کو ازراہ تفنن ’زومبی‘ یعنی زندہ لاش کہتے تھے۔ انہوں اس کی پہلی سالگرہ پر اسی مناسبت سے بچے کو ایک زومبی کی شکل دی اور اس کے لئے انسانی دماغ کی شکل کا کیک بنوایا جسے وہ کسی زومبی کی طرح کھاتا نظر آتا ہے۔ ایمی کا کہنا تھا کہ وہ جتنے دکھ اور کرب سے گزرے ہیں اسے بھلانے کے لئے انہوں نے کچھ عجیب کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے بیٹے فینکس کی ایسی تصاویر بنائیں جن میں وہ زومبی نظر آتا ہے۔ ایمی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا صارفین کی بے جا تنقید سے انہیں بہت دکھ ہوا لیکن شاید اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں فینکس کی اصل کہانی معلوم نہیں تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں