احمد پور شرقیہ:بھٹہ مالکان نے لکڑی کوئلہ کی جگہ بھوسہ جلانا شروع کر دیا

احمد پور شرقیہ (عامر عباسی سے ) بھوسہ بھٹوں پر جلانا معمول مویشیوں کی بھوک سے حالت زار خراب گزر اوقات مویشی پالنے پر ہے،دودھ فروخت کر کے زندگی بسر کرتے ہیں، 2 ماہ سے بھوسہ نہیں ملا، جانور بھوک سے مرنے لگے بھٹہ مالکان لکری کوئلہ کے بجائے بھوسہ جلانا شروع کر دیا، غریبوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی، حکام بالا تو نوٹس لیں، کسان حلقے
غریب عوام دشوار پریشان جانور بھوک سے مرنے لگے- جانوروں کے کھانے کا بھوسہ توڑی نایاب ہو گئی- تفصیل کے مطابق ساجد اعجاز عارف ہارون مدثر یعقوب فیضان زاہد اور مزید شہریوں نے بتایا کہ ہمارا گزر بسر ان جانوروں پر ہے- ھم بھینس بکریاں گائے وغیرہ پالتے ہیں اور انکا دودھ بیچ کر گزر بسر کرتے ہیں۔ گزشتہ 2 ماہ سے جانوروں کو کھانے کی توڑی بھوسہ نہیں ملا آئے روز ھمارے ایک دو جانور مر رہے ہیں۔ یہی حال رہا تو ھم برباد ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کے توڑی بھوسہ سر عام بھٹوں پر جل رہا ہے۔ بھٹہ مالکان نے لکڑی کوئلہ کی جگہ بھوسہ جلانا شروع کر دیا ہے۔ پورے پاکستان میں لکڑی اور کوئلہ سے اینٹ تیار ہوتی ہے احمد پور شرقیہ واحد تصیل ہے جہاں بھوسہ توڑی جلا کر اینٹ تیار کی جاتی ہے انہوں نے صحافیوں کو بتایا کے ھم نے بھٹہ خشت کے صدر اور اسٹنٹ کمیشنر احمد پور مہر عبدالروف سے بھی کہا پر اس نے ہماری ایک نہ سنی ہمارا کمیشنر بہاول پور سے اور ڈی سی او بہاول پور سے مطالبہ ہے کہ اس جرائم کو روکنے کے لئے ایک سپیشل ٹیم تشکیل دی جائے اور ان سب کے خلاف سخت سے سخت کروائی کریں۔ اگر کروائی نہ کی گئی تو ھم ڈی سی او آفس کے خلاف روڈ بلاک کرے گے

اپنا تبصرہ بھیجیں