مذہبی سکالر نعمان علی خان پر خواتین کو ہراساں کرنے کا الزام ،بلآخر تحقیقاتی کمیٹی نے اپنا فیصلہ سنا دیا

نیو یارک (ویب ڈیسک )امریکہ میں مقیم معروف مذہبی سکالر نعمان علی خان کی جانب سے اپنی خواتین پیروکاروں کو نازیبا پیغامات بھیجنے پر مذہبی سکالرز پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے فیصلہ سنا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ نعما ن علی خان نے خواتین پیروکاروں کے ساتھ نا مناسب رویہ اپنایا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے اس حوالے سے کوئی بھی بات کرنے سے اس لیے گریز کیا کیونکہ ہم مبینہ الزامات اور سیکنڈ ہینڈ معلومات کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہیں کرنا چاہتے تھے ،تحقیقاتی گروپ کے طور پر ہم نے اس حوالے سے ٹھوس بات کرنے کے لیے اپنا پورا وقت لیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بوجھل دل کے ساتھ تصدیق کر رہے ہیں کہ نعمان علی خان نے غیر اخلاقی رویا اپنا کر یقین کوتوڑا اور روحانیت کی خلاف ورزی کی ۔ہم نعمان علی خان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ان سے معافی مانگے جن کا اس نے دل دکھا یا ہے اور اپنے اعمال کے نتائج کا بھی سامنا کرے ۔تحقیقاتی گروپ نے کہا کہ نعمان علی خان کچھ عرصے کے لیے اپنی عوامی سرگرمیاں بھی معطل کر کے مشاورت کرے اور اپنے عمل پر کفارہ ادا کرے ۔انہوں نے مشورہ دیا کہ نعمان علی اس حوالے سے قیاس آرائیاں کرنے سے بھی گریز کرے اور جو لوگ انصاف تلاش کر رہے تھے انہیں نشانہ بھی نہ بنائے ۔نعمان علی خان کے خلاف تحقیقات کرنے والے گروپ میں عائشہ الاداویا،سلمہ ابو غدیری ،اسلامی سکالر تمارا گرے ،ڈاکٹر الطاف حسین ،امام محمد مغداورمذہبی رہنما ڈاکٹر انگرد میٹسن شامل تھے ۔
واضح رہے کہ نعمان علی خان پر الزامات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب عمر محمد مظفر نامی شخص نے ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعے کھلا خط لکھا اور دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ بیس سال سے نعمان خان کا قریبی دوست ہے۔مظفر نے بتایا کہ نعمان علی خان کی طلاق ہو چکی ہے اس لیے وہ ایک بیوی کی تلاش میں سرگرداں ہے اور اسی چکر میں خواتین کو نازیبا پیغامات بھیج رہا ہے۔مظفر کے علاوہ ایک اور مذہبی شخصیت ناوید عزیز نے بھی نعمان علی خان پر اسی قسم کے الزامات عائد کیے ہیں۔دوسری جانب نعمان علی خان نے خود پر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مناظرے کا چیلنج دیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں