الیکشن2018 ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے لڑیں: انتخابی مہم کیلئے ’’سوشل میڈیا پروموشن‘‘ پراجیکٹ شروع

پاکستان کی معروف نیوز ویب سائٹ’’سٹی نیوزایچ ڈی ڈاٹ ٹی وی‘‘ نے الیکشن2018ء کے پیش نظر اپنے ’’سوشل میڈیا پروموشن‘‘ منصوبے کا آغاز کر دیا ہےاور اس مقصد کیلئے پروفیشنل صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک صحافیوں پر مشتمل الگ ڈیسک بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
الیکشن2018ء میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سوشل میڈیا پر مہم چلانے کیلئے ’’سٹی نیوزایچ ڈی ڈاٹ ٹی وی‘‘ اور ڈیجیٹل میڈیا کمپنی’’ سٹی میڈیا گروپ‘‘ کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔
معاہدے کے تحت امیدوار کی فیس بک پیج کے تحت اور انفرادی اکائونٹس کے ذریعے انتخابی مہم چلائی جائیگی اور اس کے بہترین نتائج کیلئے فیس بک پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عام شہریوں پر مشتمل لاکھوں فیس بک صارفین کے گروپس میں انتخابی مہم کو منظم طریقے سے چلایا جائے گا۔
’سٹی نیوزایچ ڈی ڈاٹ ٹی وی‘‘ کے ڈائریکٹرپروگرام اینڈ کرنٹ آفئرمحتشم خان ترین نے بتایا کہ ہر امیدوار کی روزانہ کی سرگرمیوں،نیوز ویب سائٹ پر خبروں اور ویڈیوز پیغامات کے ذریعے فیس بک پر انتخابی مہم چلائی جائیگی۔
انہوں نے بتایا کہ الیکشن2018ء کیلئے پاکستان بھر کے وٹس ایپ گروپس پر مشتمل نیٹ ورک بھی تیار کر لیا گیا ہے جس میں امیدوار کی خبروں پر مشتمل لنکس کو شیئر کیا جائیگا تاکہ انتخابی مہم کے مزید بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔

محتشم خان ترین کہتے ہیں کہ اب بینروں، فلیکسز کا دور نہیں رہا، اب ڈیجیٹل میڈیا(سوشل میڈیا) کا دور آ چکا ہے، انتخابی مہم کی جتنی لاگت بینروں اور فلیکسز پر آتی ہے، اس کا پچاس فیصد سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابی مہم پر خرچ کیا جائے تو یہ روایتی ذرائع کی بجائے زیادہ مئوثر ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اگر ایک امیدوار ٹی وی چینلز اور اخبارات میں انتخابی مہم کااشتہار دیتا ہے تو اخبار کی زندگی تو ایک دن میں ختم ہو جاتی ہے اور پھر پتہ نہیں کوئی پڑھتا بھی ہے یا نہیں، اسی طرح اب کسی حلقے کے ووٹرز چوبیس گھنٹے ٹی وی چینلز لگا کر تو نہیں بیٹھے سکتے کہ ہمارےحلقے کے امیدواروں کے اشتہارات آنے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر تو انتخابی مہم ہمیشہ موجود رہتی ہے بلکہ آپ اپنے موبائل کے ذریعے سوشل میڈیا پر انتخابی مہم کو خود بھی مانیٹر کر سکتے ہیں۔
ایم ڈی سٹی میڈیا گروپ زبیر ملک کے مطابق موجودہ الیکشن کی انتخابی تیاریوں میں پہلی مرتبہ امیدواروں کا زیادہ رجحان سوشل میڈیا کی طرف دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لوگ ٹی وی چینلز، اخبارات، بینزوں اور فلیکسز کے ذریعے روایتی تشہیر کے ذرائع پر اعتماد نہیں کر رہے۔ اس کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز، اخبارات، بینزوں اور فلیکسز پر انتخابی مہم نہ صرف انتہائی مہنگی پڑتی ہے بلکہ مئوثر نتائج بھی قابل اعتماد نہیں ہوتے جبکہ اس کے مقابلے میں سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابی مہم سستی بھی پڑتی ہے اور آپ اپنی مرضی کے نتائج بھی مانیٹر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی سائنس اور تکینکی امور پر عبور رکھنے والے ماہرین کسی بھی مہم کے مرضی کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں