میرا یہ سفر نوکری کاآخری سفر ہے اور آپ آخری سواری

میں سوچ رہا ہوں کہ آپ سے یہ سٹوری شئیر کروں یا نہیں۔بڑی احمقانہ سی یہ کہانی لگے گی کچھ لوگوں کو۔فرضی سی لگے گی۔لیکن بخدا میں کیسے آپ کو یقین دلاو191ں کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ ایسی کہانیاں رونما ہوتی ہے۔وہ یونیک لوگ ہوتے ہیں جن کا تعلق ماورائی دنیا کی مخلوق سے جْڑ جاتا ہے۔ان کی شہدا کی روحوں سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے اور وہ انہیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ شہید زندہ ہوتے ہیں۔
ایک روز مجھے ڈیفنس میں رات نو بجے کمپنی کی تقریب میں پہنچنا تھا۔میں نے سوچا کہ گھر سے تیار ہوکر میں آسانی سے پہنچ جاوں گا لہذا میں جب گھر پہنچا تو اس وقت چھ بج چکے تھے۔میں نے ایک معروف کیب کمپنی کو فون کیا کہ وہ مجھے آٹھ بجے میرے گھر سے اٹھا لیں۔تھوڑی دیر بعد ان کا میسج آگیا کہ ٹھیک پونے آٹھ بجے ایک ڈرائیور حاجی خان آپ کو پک کرلے گا،ساتھ انہوں نے گاڑی کی رجسٹریشن اور ڈرائیور کاآئی ڈی نمبر بھی ارسال کردیا تھا۔ میں نے اطمینان سے شاور لیا اور ساڑھے سات بجے تک ریڈی ہوگیا۔اتفاق سے ٹھیک پونے آٹھ بجے باہر ہارن کی آواز آئی اور میں جب باہر نکلا تو میرون کلر کی ایک نئی ٹیوٹا کیب سامنے کھڑی تھی ،ڈارئیور نے اپنا نام اور آئی ڈی کارڈ دیا اور رجسٹریشن چیک کرکے میں اس میں سوار ہوگیا۔وہ کوئی پینسٹھ سترسالہ شخص تھا۔ ہلکی چھوٹی سی داڑھی،سر پراس نے سفید ٹوپی پہن رکھی تھی۔کیب والے عموماً ایسی ٹوپیاں نہیں پہنتے۔میرے ذہن میں خیال آیا کہ وہ نماز پڑھتے پڑھتے آگیا ہے اور ٹوپی اتارنا بھول گیا ہے۔ان دنوں ٹیکسی آن کال مل جاتی تھی لیکن بعض ٹیکسیوں میں میٹر بھی لگے ہوتے تھے جس سے سواری کو سفر اور کرایہ میں کوفت نہیں ہوتی تھی۔اچانک میری نظر میٹر پر پڑی تو میں نے چونک کر کہا ’’ حاجی صاحب،آپ میٹر چلانا بھول گئے ہیں‘‘
حاجی صاحب نے بیک مرر سے مجھے دیکھا اور کہا’’ میٹر خود بند کردیا ہے سر۔آپ فکر نہ کریں۔آج کا یہ سفر بالکل فری کریں گے آپ‘‘
’’ کیا مطلب ‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’ دراصل میرا یہ سفر نوکری کاآخری سفر ہے اور آپ آخری سواری ہیں میری،کل صبح میں پھرریٹائرڈ ہوجاوں گا اس نوکری سے اور سکون کرنے اپنے گاوں چلا جاوں گا۔‘‘ حاجی خان نے بڑے سرور سے کہا’’ بڑی نوکری کرلی صاب۔اب تو سارا وقت اللہ اللہ کرنا چاہتا ہوں۔دیکھیں ناں بندہ روٹی روزی کے لئے بھاگتا پھرتا ہے لیکن نماز بھی سکون سے نہیں پڑھ پاتا۔‘‘
’’ ہاں یہ تو ہے۔مگر میں آپ کو پیسے دوں گا۔یہ مناسب بات نہیں‘‘
’’ کیا آپ نہیں چاہتے میری روح کو آپ کی خدمت کرکے سکون ملے۔مجھے اب پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں۔میں نے سوچا تھا کہ اپنی نوکری کے آخری سفر اورآخری سواری سے کرایہ نہیں لوں گا‘‘ میں نے اس دم محسوس کیا کہ حاجی صاحب کے چہرے پر یاقوتی سی مسکراہٹ اور اطمینان ہے۔دنیاوی کشاکش کی فکر کی کوئی لکیر انکے ماتھے پر کندہ نہیں تھیں۔میں نے سوچا کہ یا اللہ دنیا میں اتنے مطمئین اور شاکر لوگ کیا آج بھی زندہ ہیں۔
مجھے انکے خلوص نے متاثر کیا اور میں انکے ساتھ باتیں کرنے لگا کہ وہ مجھ پر اتنے مہربان ہیں تو مجھے بھی انکے ساتھ محبت بھری باتیں کرنی چاہیءں۔انہوں نے بتایا کہ وہ دس سال سے ٹیکسی چلا رہے ہیں۔پہلے وہ فوج میں ڈرائیور تھے۔انہوں نے اکہتر کی جنگ میں مشرقی محاذ پر حصہ لیا اور شہدا کے جسد خاکی اور زخمیوں کو میدان جنگ سے نکال کر لے آتے تھے۔انکو شہادت کی بڑی تمنا تھی۔
اچانک میری نظر گاڑی کی ٹائمنگ سکرین پر پڑی ،اس پر وقت جامد تھا۔کوئی ہندسہ آگے نہیں جارہا تھا ،گھڑی ساڑھے سات بجے پر رکی ہوئی تھی۔میں نے کہا ’’حاجی صاحب آپ کی گھڑی خراب لگتی ہے۔وقت کیسے مینج کرتے ہیں۔اسطرح تو آپ کو دیر سویر ہوجاتی ہوگی‘‘
بولے’’ اب کیا کرنا ہے ٹائم کو ۔۔۔ آپ کے بعد میں نے کوئی اور سواری تو لینی نہیں۔‘‘
اس دوران میری منزل آگئی۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا ’’حاجی صاحب آپ بہت اچھے انسان ہیں۔آپ جیسے انسانوں کی وجہ سے اس دنیا میں اچھائی قائم ہے۔ورنہ ہم جیسے دنیاداروں کوتو نیکی کی فرصت ہی نہیں۔میرے لئے بھی دعا کیجئے گا‘‘
وہ پلٹے اور کہا’’ بیٹا بس اللہ سے دعا کیا کروکہ وہ پاکیزہ روٹی دے اور پاکیزہ موت ، بس اسی میں جنت اور دوزخ ہے ‘‘چلتے ہوئے انہوں نے بڑے اطمینان سے مجھے دعا دی اور گاڑی لیکر چلے گئے۔
میں ہوٹل کی لابی مین داخل ہورہا تھا کہ اچانک مجھے کیب کمپنی کی جانب سے کال موصول ہوئی ’’ سر ویری سوری۔ہم آپ کو وقت پر اطلاع نہین دے سکے کہ آپ کو پک نہیں کیا جاسکا کیونکہ آپ کی سائٹ کے لئے ہمیں دوسرا ڈرائیور ارینج کرنے میں ٹائم لگا ہے،اگر کہیں تو اسکو بھیج دیں‘‘
یہ اطلاع نہیں بم کا دھماکہ تھا۔میں نے چونک کر کہا’’ کیا مطلب۔میں تو آپ کی ٹیکسی پر سوار ہو کر وقت پر ڈیفنس پہنچ گیا ہوں ‘‘
’’ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔وہ پہلے ولا ڈارئیور تو دستیاب نہیں رہاتھا ‘‘ کال کرنے والے نے تشویش سے کہا’’ کیونکہ۔۔۔‘‘
میں نے اسکی بات کاٹی’’ ارے بھائی وہی حاجی خان صاحب تھے جن کا میسج آپ نے دیا تھا۔میں نے انکی گاڑی کی رجسٹریشن اور ان کا آئی ڈی کارڈ دیکھ کرسفر کیا ہے۔۔۔‘‘
اس نے جھٹ سے میری بات کاٹ دی ’’ سر ایسا نہیں ہوسکتا۔آپ کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے۔ حاجی خان تو بم بلاسٹ میں شہید ہوگئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ چھوٹی سی سفید داڑھی ،ستر سال عمر تھی ان اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
یہ سنتے ہی میں پسینے میں نہا گیا۔حالانکہ اس دوران میں ہوٹل کی ٹھنڈی لابی میں پہنچ چکا تھا ’’ اسی وجہ سے تو ہمیں آپ کو بتانے میں دیر ہوگئی ہے سر۔انہوں نے ہمیں اطلاع دی تھی کہ وہ سوا سات بجے نماز پڑھنے کے بعد آپ کے پاس پہنچ جائیں گے۔لیکن ساڑھے سات بجے مسجد میں بم بلاسٹ ہوا اور وہ بھی اس میں شہید ہوگئے۔اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آپ کو لینے پہنچ جاتے ۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا لیکن مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ،میں لابی کے صوفہ پربیٹھ گیا۔میری آنکھوں کے سامنے حاجی صاحب کا پر نور متبسم چہرہ عودآیا۔اور میں سوچنے لگا کہ واقعی اب میں انکی آخری سواری تھا،انہیں اب کسی پیسے کی ضرورت نہیں تھی،نہ گاڑی میٹر چلانے اور گھڑی کا ٹائم درست کرنے کی ۔۔۔ کیونکہ اب وہ اس منزل دوام کی جانب جاچکے تھے جہاں وقت ٹھہر جاتا ہے۔
میں آج بھی اس واقعہ پر غور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اللہ کے حقیقی صالح بندے جب شہیدہوتے ہیں تووہ واقعی زندہ ہوتے ہیں۔بے شک ہم کو اسکا شعور نہیں۔

Back to Conversion Tool

Urdu Home

اپنا تبصرہ بھیجیں