عامر لیاقت کی ویڈیوز کے بعد بول ٹی وی نے بھی ویڈیو جاری کردی، عامر لیاقت پر ’ حملہ‘ کردیا

کراچی (نیوز ڈیسک) معروف اینکر پرسن ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بول نیوز کو خیرباد کہہ چکے ہیں اور جاتے جاتے ادارے پر سنگین نوعیت کے الزامات کی بھرمار بھی کر گئے ہیں ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کے الزامات کے جواب میں بول ٹی وی نے ان کی ویڈیو کے ایک ایک حصے اور الزام کا الگ الگ جواب دیا ہے جبکہ بول انتظامیہ کی جانب سے اینکر پرسن پر جوابی الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
بول نیوز کی جانب سے جاری ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی طرف سے اپنی ویڈیو میں بے سروپا اور بے بنیاد باتیں کی گئیں، یہ کوئی حیرت اور اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ انہیں اس سے پہلے بھی اس طرح کے دورے پڑتے رہے ہیں، وہ ماضی میں بھی اس طرح کی حرکتیں کرتے آئے ہیں۔

عامر لیاقت نے استعفیٰ دینے کے بعد بول ٹی وی چینل کے مالک شعیب شیخ کے خلاف انتہائی سنگین الزامات کی بارش کر دی
ویڈیو میں بول انتظامیہ نے موقف اپنایا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین بیماری کا کہہ کر گھر بیٹھے اور جب فون کال کی جاتی تو آگے سے کھانستے ہوئے کہتے کہ وہ ابھی پروگرام نہیں کرسکتے، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے پیشگی استعفیٰ نہیں دیا اگر دیا ہے تو وہ دستاویزی ثبوت سامنے لے آئیں، ’ پروگرام ایسے نہیں چلے گا ہم نے کرنا سکھایا تھا کیونکہ اس سے پہلے تو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین آم کھلاتے اور چورن بیچا کرتے تھے‘ ۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی جانب سے بول انتظامیہ کے کہنے پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے اعتراف پر ٹی وی انتظامیہ نے اپنے موقف میں حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک شخص جس کے پاس 30 سالہ براڈ کاسٹنگ کا تجربہ ہو وہ کسی کی باتوں میں کیسے آسکتا ہے؟ ۔ انتظامیہ نے موقف اپنایا ہے کہ عامر لیاقت کی حرکتوں کی وجہ سے ان کا پروگرام لائیو سے ریکارڈڈ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے لڑ لڑ کر اپنا پروگرام دوبارہ لائیو کروایا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے جس طریقے سے آخری پروگرام کیا اس پر ان پر تاحیات پابندی لگنی چاہیے اگر نہیں لگے گی تو بول نیٹ ورک خود ان کے خلاف عدالت جائے گا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گیم شو کی کامیابی نے ڈاکٹر عامر لیاقت کو پاگل کردیا، وینا ملک اور چوہدری برادران نے وہ ریٹنگ دی جو ڈاکٹر عامر لیاقت کے ساتھ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا پیسے دبانے کا الزام بے بنیاد ہے ، وہ ایک دفعہ معاہدہ پڑھ لیں کیونکہ معاہدے کے حساب سے تو اب حساب کتاب ڈاکٹر عامر لیاقت کی طرف نکلتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں