”نقیب اللہ کو پاک فوج نے یہ چیز دی تھی کیونکہ۔۔۔“ قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھا تو شاہ جی گل آفریدی نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا، ایسی حقیقت سامنے آ گئی کہ ہر پاکستانی لرز اٹھا

لاہور کراچی (ویب ڈیسک) صوبائی دارالحکومت کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نیب اللہ محسود کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہیں پاک فوج کی کلیئرنس کے بعد وطن کارڈ دیا گیا تھا جو کسی بھی صورت دہشت گردوں کو جاری نہیں ہو سکتا۔
فاٹا کے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے نقیب اللہ محسود کو مارے جانے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے وزارت انسانی حقوق سے نقیب اللہ محسود اور کراچی میں لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ اگلے ہفتے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فاٹا کے اراکین اسمبلی کی طرف سے نقیب اللہ کے قتل کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا جن میں شاہ جی گل آفریدی نمایاں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نقیب اللہ محسود کو کراچی میں مارا گیا جبکہ اس کے پاس وطن کارڈ تھا اور یہ وہ کارڈ ہے جو سول اور عسکری انتظامیہ کی کلیئرنس کے بعد جاری ہوتا ہے اور یہ کسی بھی صورت کسی دہشت گرد کو جاری نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پتہ چلنا چاہئے کہ کیسے نقیب اللہ محسود کو مارا گیا ہے۔
طالبان کے لیڈر ملا عمر کو 5 کروڑ روپے دئیے گئے تاکہ وہ کلبھوشن یادیو کو۔۔۔‘ وہ پاکستانی جس نے اپنے ہی ملک کے خلاف وہ بات کہہ دی کہ کوئی دشمن بھی نہیں سوچ سکتا تھا
زینب کی لاش جس جگہ سے ملی اس سے کتنے فاصلے پر موجود مکان میں اسے رکھا گیا؟ گرفتار افراد نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا، مکان پر چھاپہ مارا تو پولیس والوں کے پیروں تلے بھی زمین نکل گئی
فاٹا کے ہی ایم این اے جمال دین نے کہا کہ راﺅ انوار نے نقیب اللہ محسود کا قتل کیا ہے اور وہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر مطالبہ کیا کہ راﺅ انوار کو اس قتل کے الزام میں پھانسی دی جانی چاہئے جس پر پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس پر کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی رپورٹ ایک سے دو روز میں آ جائے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ہدایت کی ہے کہ کراچی میں ہونے والی تمام گمشدگیوں، قتل اور ٹاگرٹ کلنگ کے واقعات کی مفصل رپورٹ ایک ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں