ا سرائیلی پولس نے مسجد اقصیٰ کے باہراحتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے سپریم اسلامی کونسل بیت المقدس کے سربراہ اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب ڈاکٹر الشیخ عکرمہ صبری سمیت کم اَز کم 14 افراد کو شدید زخمی جبکہ ایک فلسطینی کو شہید کر دیا

یروشلم(سٹی نیوز)ا سرائیلی پولس نے مسجد اقصیٰ کے باہراحتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے سپریم اسلامی کونسل بیت المقدس کے سربراہ اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب ڈاکٹر الشیخ عکرمہ صبری سمیت کم اَز کم 14 افراد کو شدید زخمی جبکہ ایک فلسطینی کو شہید کر دیا ہے۔
5 روز قبل اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تین فلسطینی نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کر نے کے ساتھ قبلہ اول کو بند کر دیا تھا ،جس کے بعد 50 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبلہ اول میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد کر دی تھی ،اسرائیلی پولیس کی جانب سے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف امام مسجد اقصی اور سپریم اسلامی کونسل بیت المقدس کے چیئرمین ڈاکٹر الشیخ عکرمہ صبری نے سینکڑوں نمازیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے ’’باب الاسباط‘‘ کے باہر نماز عشا کی ادائیگی شروع کر دی ،ابھی الشیخ عکرمہ صبری نے سلام پھیرا ہی تھا کہ اسرائیلی پولس نے مسجد اقصیٰ کے باب الاسباط کے باہر موجود سینکڑوں نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال اور اندھا دھند فائرنگ کرنا شروع کر دی جس میں کئی فلسطینی زخمی ہوگئے، زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے،جبکہ الشیخ عکرمہ صبری بھی اس اسرائیلی پولیس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر مشرقی یروشلم میں المقاصد ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے لیکن ان کی حالت کیسی ہے ؟ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی ہسپتال کے اندر سے اس ضمن میں کوئی خبر مل پا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں