جب رسول خدا ﷺ نے سات کنکریاں دست مبارک میں پکڑیں تو وہ تسبیح پڑھنے لگیں ،ایمان افروز معجزہ رسول ﷺ

قرآن کریم میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر چیز ہماری حمد و ثنا بیان کرتی ہے۔ یعنی کائنات میں موجودہ ہر شئے بولتی، سنتی اور ایک دوسرے کو پہچانتی ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد باری ہے کہ” ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں اللہ کی عظمت بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔“
قرآن مجید کی گواہی خود آقائے دوجہاں ﷺ کی سیرت مبارکہ سے ملتی ہے ۔آپﷺ کے معجزات کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ بے جان پتھر و درخت بھی آپﷺ سے ہمکلام ہوتے تھے ۔ایک ایسا ہی واقعہ کنکریوں کا تسبیح کرنا بھی مشہور ہے۔
بیہقی نے دلائل البنوة میں ابوذرؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوذرؓ کا بیان ہے کہ میں آنحضور ﷺ کے پاس تنہائی کے وقت جاتا کرتا تھا۔ ایک دن آپﷺ کو اکیلا پا کر گیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد ابو بکر صدیقؓ آئے اور سلام کر کے آنحضورﷺ کے دائیں جانب بیٹھ گئے۔ پھر حضرت عمرؓ آئے اور سلام کر کے ابو بکرؓ کے دائیں جانب بیٹھ گئے ۔ پھر حضرت عثمانؓ آئے اور سلام کر کے حضرت عمرؓ کے دائیں جانب بیٹھ گئے۔ آنحضورﷺ کے سامنے سات کنکریاں پڑی ہوئی تھیں۔ آپﷺ نے مٹھی میں وہ کنکریاں رکھ لیں تو وہ خدا کی تسبیح کرنے لگیں۔ کنکریوں کی تسبیح کی آواز جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے سبھوں نے سنی۔ پھر ان کنکریوں کو آپﷺ نے جب رکھ دیا تو خاموش ہوگئیں۔ اس کے بعد کنکریاں اٹھا کر ابو بکرؓ کے ہاتھ میں دیں تو وہ تسبیح پڑھنے لگیں اور شہد کی مکھی کی طرح آواز آنے لگی۔ ابو بکرؓ نے رکھ دیں تو چپ ہوگئیں۔ پھر حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ کے ہاتھوں میں دیں تو کنکریوں نے سب کے ہاتھوں میں تسبیح پڑھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں