فلپائنی بچی نے پاؤں پر پٹیاں باندھ کر تین گولڈ میڈل جیت لیے

لاہور: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں سینکڑوں کھلاڑی عالمی ایونٹ میں شرکت کے لیے جوش و خروش سے تیاریاں کرتے ہیں، ان تیاریوں کے لیے کئی بار مہینے اور کئی ہفتے لگ جاتے ہیں، انہی تیاریوں میں سب سے اہم چیز جذبہ کے ساتھ بنیادی سہولیات کا ہونا ہے، جس میں کپڑے اور جوتے شامل ہیں، تاہم ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے، اس خبر کے مطابق فلپائن کی ایک 11 سالہ بچی نے جوتے کے بغیر پاؤں پر پٹیاں باندھ کر تین گولڈ میڈل حاصل کر لیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق لیکن ایک ایسی ننھی ایتھلیٹ بھی ہیں جنہیں فتح حاصل کرنے لیے مہنگے اور آرام دہ جوتوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 11 سالہ ریہا بیلوس کا تعلق فلپائن سے ہے جنہوں نے حال ہی میں صوبائی سپورٹس ایونٹ میں شاندار فتح حاصل کرتے ہوئے تین گولڈ میڈل جیتے۔

ننھی ایتھلیٹ کی کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے دوڑ میں جوتے نہیں پہنے تھے بلکہ انہوں نے اپنے پاؤں پر صرف پٹیاں (بینڈیج) باندھ رکھی تھی۔ ایتھلیٹ نے مقابلے میں حصہ لینے والی ان تمام لڑکیوں کو مات دی جنہوں نے دوڑ کے دوران جوتے پہنے ہوئے تھے۔

سوشل میڈیا پر ریہا کی تصاویر خوب وائرل ہوگئیں، تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان ایتھلیٹ کے پاؤں میں جوتوں کی جگہ چند (بینڈیج) پٹیاں بندھی ہوئیں ہیں جس پر انہوں نے خود سے معروف اسپورٹس جوتوں کی برانڈ نائکی کا لوگو بنایا ہوا ہے۔

ریہا کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر سے لوگ انہیں مبارکباد دینے کے ساتھ ان کے جذبے کو سراہ بھی رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں