” ایک ایماندار پولیس افسر نے بتایا کہ ہے ذیشان 100 فیصد دہشتگردی میں ملوث تھا

لاہور (ویب ڈیسک) سئنئر صحافی چوہدری غلام حسین نے کہا ہے کہ ملزم ذیشان دہشتگردی میں 100فیصد ملوث تھا، نواز دور میں سیاسی ورکرز اور جرائم پیشہ افراد کو پولیس اور دیگر سرکاری اداروں میں بھرتی کیا گیا، ساہیوال واقعہ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو گولیاں مار کر ماراجائے تو آئندہ کسی کو عوام پر گولی چلانے کی جرأت نہ ہوگی۔

سینئر صحافی چودھری غلام حسین نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ 1999ءمیں آئی جی پنجاب نے رپورٹ دی تھی کہ جرائم پیشہ افراد کو بڑے پیمانے پر پولیس میں بھرتی کیا گیا جب تک پڑھے لکھے ایماندار نوجوانوں کو میرٹ پر پولیس میں بھرتی نہیں کیا جائے گا پنجاب پولیس ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ بچوں کے سامنے والدین کو قتل کرنے والوں کا سمری ٹرائل کرکے اسی جگہ ویسے ہی مارا جائے۔ ایک ایماندار پولیس افسر نے بتایا کہ ذیشان 100فیصد دہشتگردی واقعات میں ملوث ہے آج وزیراعظم، وزیراعلیٰ سے استعفیٰ مانگنے والے یہ بتائیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد انہوں نے استعفیٰ کیوں نہ دیا۔

سینئر صحافی قاصی سعید نے کہا کہ ساہیوال واقعہ پر بھی پردہ ڈالنے کی پوری کوشش کی جائے گی کہ یہاں یہی ریت ہے۔ گاڑی میں دہشتگرد موجود بھی تھا تو اس طرح اندھا دھند فائرنگ نہیں کی جاسکتی تھی۔ پنجاب پولیس کے رویے بارے میڈیا پر فوٹیچ چلتی رہتی ہیں آج تک کسی نے ایکشن نہیں لیا۔ لیگی رہنماؤں کے ہاتھ تو خود ماڈل ٹاؤن سانحہ میں معصوم افراد کے خون میں رنگے ہیں۔ ان کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں کہ فلاح استعفیٰ دے اور فلاں کو جیل میں ڈال دو۔ ریاست کی رٹ یہ ہے کہ رانا ثناءاللہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی جی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کررہا ہے، وزیرعظم کے ”وسیم اکرم“ کہاں سوئے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں