انتخاب عالم کو حفیظ کاردار نے کیسے منتخب کیا؟

لاہور: پاکستان جب معرض وجود میں آیا اس وقت انتخاب عالم پانچ سال کے تھے۔ ان کا خاندان شملہ میں رہائش پذیر تھا۔ والد الیکٹریکل انجینئر تھے۔
انتخاب عالم اس سکول الیون ٹیم کے کپتان تھے جس نے انٹرسکول الیون ٹورنامنٹ جیتا تھا۔ وہ کراچی سی کی جانب سے چند فرسٹ کلاس میچز بھی کھیل چکے تھے لیکن کمبائنڈ سکول الیون کے سلیکٹرز انہیں اپنی ٹیم میں منتخب نہیں کرتے تھے جس کا انتخاب عالم کو بہت افسوس تھا۔ ان کے بڑے بھائی نیٹ میں پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو باؤلنگ کرایا کرتے تھے۔ ایک دن انتخاب عالم بھی ویسے ہی باؤلنگ کرانے چلے گئے۔ یہ 1958ء کی بات ہے۔

جب انہوں نے باؤلنگ کرانا شروع کی تو عبدالحفیظ کاردار نے انہیں بغور دیکھنا شروع کیا۔ جوں ہی انتخاب عالم نے وزیر محمد( جنہوں نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ میں 189رنز بنائے تھے) کو آؤٹ کیا تو حفیظ کاردار بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے انتخاب عالم کو بلایا، نام پوچھا اور کہا کیا تم کل سکول الیون کیلئے کھیل رہے ہو؟
انتخاب نے کہا ’’نہیں سر‘‘، حفیظ کاردار نے کہا اوہ، پھر تم کل پاکستان کی طرف سے کھیلو گے۔ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ یہ سن کر مجھے یقین نہیں آیا میں نے خود کو چاند پر محسوس کیا۔
اگلی صبح انتخاب عالم کراچی سٹیڈیم پہنچے تو کمبائنڈ سکول الیون کے سلیکٹرز نے کہا انتخاب تم ادھر کیا کر رہے ہو؟ انتخاب عالم نے کہا میں آپ کی طرف سے نہیں کھیلنے کیلئے آیا میں پاکستان کی طرف سے کھیلوں گا۔ بس یہ سننا تھا کہ سلیکٹرز حیران رہ گئے، انہیں یقین ہی نہیں آیا۔
تقسیم کے فسادات سے بچ کر نکلنا
پاکستان جب معرض وجود میں آیا اس وقت انتخاب عالم پانچ سال کے تھے۔ ان کا خاندان شملہ میں رہائش پذیر تھا۔ والد الیکٹریکل انجینئر تھے۔ جب فسادات شروع ہوئے تو انتخاب کے والد اپنے بیوی بچوں کیلئے بہت پریشان ہوئے کیونکہ شملہ میں ان کا واحد مسلمان گھرانہ بچا تھا۔
انتخاب کا خاندان ان پرآشوب حالات میں گھر کو چھوڑ کر والد کے ایک دوست کے گھر میں روپوش ہو گیا۔ کچھ راتیں گزرنے کے بعد فسادیوں کے ہجوم نے ان کے دوست کے گھر پر ہلہ بول دیا۔
انتخاب عالم کے خاندان نے قریبی پاور سٹیشن میں چھپ کر جان بچائی۔ انتخاب کے والد مہاراجہ آف پٹیالہ کی طرف سے کرکٹ کھیل چکے تھے جس کی وجہ سے ان کی برطانوی حکومت میں دوستیاں تھیں۔ انہوں نے پاور سٹیشن سے اپنے ایک برطانوی فوج کے بریگیڈئیر دوست کو میسج بھجوایا کو وہ مشکل میں ہیں ان کی مدد کی جائے۔ تھوڑی دیر بعد پاور سٹیشن کے پاس ایک آرمی کا ٹریک پہنچ گیا جس نے پورے خاندان کو اپنے ساتھ بٹھایا اور لدھیانہ لے گیا۔
یہاں انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے گھر قیام کیا۔ پھر ایک اور ٹرک کا انتظام کیا گیا اور پورے خاندان کو کالکا پہنچایا گیا تاکہ سرحد پار کرکے پاکستان پہنچایا جا سکے۔
کالکا میں انہوں نے ایک رات ٹینٹ میں گزاری جہاں سے لاہور ٹرین پر سوار ہونا تھا۔ قریب ہی فسادیوں کے ٹولے حملے کرتے تھے۔ گولیوں کی آوازیں کانوں میں پڑتی تھیں۔
ٹرین صبح سویرے روانہ ہوئی۔ یہ مسافر ٹرین تھی اور یہ پاکستان جانیوالی آخری ٹرین تھی۔ اس کے بعد پاکستان کوئی ٹرین روانہ نہ ہوئی۔ یہ اس خاندان کی خوش قسمتی تھی۔
راستے میں ایک جگہ جنگل میں ٹرین رکی تو جگہ جگہ لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ منظر انتخاب عالم کی آنکھوں میں آج بھی گھوم جاتا ہے۔ ٹرین لاہور پہنچی، خاندان نے ڈیڑھ ماہ مہاجرین کیمپ میں قیام کیا، اس کے بعد پھر کراچی روانہ ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں