جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے، قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ، چیف جسٹس کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے کیس میں ریمارکس

کراچی (ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ، جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے، عدالت ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہے ، لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپس کھول لیے ہیں، لوگ بلک گئے ہر ماہ قیمتیں اوپرنیچے کر دیتے ہیں لگتا ہے یہ سب ڈیلرز اور اداروں کی اجارہ داری ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ دورانِ سماعت سیکرٹری فنانس نے عدالت کو بتایا کہ سابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں جس کی وجہ سے اس فیصلے کا بوجھ عبوری حکومت پرآیا، خسارہ کم کرنے کے لیے مزید قیمت بڑھائی جاسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اس کا مطلب ہے کہ شہریوں پر مزید عذاب ڈالیں گے، جس کا دل چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے، عدالت ٹیکسز اور قیمتوں کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہے ۔
سیکرٹری فنانس نے عدالت کو بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی خطے میں سب سے کم ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کئی بار سن چکا ہوں کہ قیمتیں بھارت سے کم ہیں،بھارت میں ڈالر کی قیمت بھی تو دیکھیں، بھارت اچھا کر رہا ہے یا برا لیکن آپ کیا کر رہے ہیں؟۔
ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات پی ایس او سمیت 22 کمپنیاں خریدرہی ہیں،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے تناسب سے اوسط قیمت مقرر کی جاتی ہے،مشترکہ اجلاس میں ہر کمپنی 3 ماہ کی ڈیمانڈ رکھتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا عدالت آپ کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہے آپ کے ریکارڈ کی ماہرین سے تصدیق کرائیں گے اگر آپ لوگوں کی رپورٹس میں جھول ہوا توکسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ڈیلرز کے کمیشن کے تناسب میں فرق پر چیف جسٹس پاکستان نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپس کھول لیے ہیں، لوگ بلک گئے ہر ماہ قیمتیں اوپرنیچے کر دیتے ہیں لگتا ہے یہ سب ڈیلرز اور اداروں کی اجارہ داری ہے۔ بتائیں کراچی والوں سے ٹرانسپورٹیشن چارجز کیوں لے رہے ہیں؟۔
عدالت نے چیئرمین اوگرا کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کیا ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے؟ جس پر ایم ڈی پی ایس او نے کہا کہ پالیسیاں اوگرا بناتا ہے جس پر اوگرا حکام نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اوگرا پالیسیاں بناتا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے طریقہ کار سے متعلق تمام پالیسیاں حکومت بناتی ہے۔ ذمے داریاں ایک دوسرے پر ڈالنے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کا اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیے ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمہ داریاں ڈال رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اداروں سے جامع جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی

اپنا تبصرہ بھیجیں