افغانستان کے حوالہ سے پاکستان کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش

اسلام آباد(سٹی نیوز )ٹرمپ انتظامیہ کی افغان پالیسی کے اعلان سے پہلے ہی،افغانستان کے حوالہ سے پاکستان کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے افغان حکومت سے معاہدہ کرنے والی گل بدین حکمت یار کی حزب اسلامی پر بھی پاکستان کے خلاف اشتراک کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ قومی سلامتی سے متعلق ذرائع کے مطابق حزب اسلامی سے نظریاتی تعلق رکھنے والے لاکھوں افغان مہاجر تین دہائیوں تک پاکستان میں مہمان رہے۔ ان کی اکثریت وطن واپس جا چکی ہے۔
یہ مہاجرین، پاکستان کے جغرافیائی، سیاسی ، معاشی و سماجی ڈھانچہ سے کسی پاکستانی کی طرح ہی آگاہ ہیں اب انہیں ، پاکستان کے خلاف’’ اثاثہ‘‘ بنانے کی مہم شروع کی گئی ہے۔پاکستان کیلئے تشکر کے جذبات رکھنے والے ان مہاجرین کی جانب سے مذکورہ کوششوں کے بارے میں ان دنوں تواتر سے شکایات موصول ہو رہی ہیں۔
اس ذریعہ کے مطابق اب معاملہ یہ نہیں کہ پاکستان کی سرزمین ،کسی ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے بلکہ صورتحال یہ ہے کہ افغان سرزمین سے ،پاکستان کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کارروائیوں کے منصوبہ ساز بھارتی ہیں۔ افغان انٹیلی جنس اور سیکو رٹی ادارے ان کی معاونت کرتے ہیں۔ امریکہ کو ان حالات کا علم ہے لیکن اس نے چپ سادھ رکھی ہے۔ جہاں تک حزب اسلامی اور گل بدین حکمت یار کا تعلق ہے تو ماضی میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ہر سازش کا حصہ بننے سے انکار کیا لیکن وطن واپس جا کر سنگین معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنے والے متعدد مہاجرین پاکستان دشمنوں کے ہاتھ چڑھ چکے ہیں۔ چنانچہ افغان سرزمین سے پاکستان کیلئے پیدا ہونے والے چیلنجوں میں ایک اور چیلنج کا اضافہ ہو چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں