خواجہ سعد رفیق کا ’ لوہے کے چنے‘ والا بیان تو آپ کو یاد ہوگا؟ اب چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق کو بھری عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ آپ کی بھی ہنسی نہیں رکے گی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان کا وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کہا کہ اگر کوئی التوا مانگے گا تو یہاں بڑے مقرر موجود ہیں، خواجہ سعد رفیق بڑے جید مقرر ہیں ۔ انہیں قانون کا بھی پتہ ہے انہیں سنتے رہتے ہیں لیکن وہاں ہم بول نہیں سکتے۔
ہم لوہے کے چنے ہیں ، جو ہمیں چبانے کی کوشش کرے گا دانت ٹو ٹ جائیں گے ، مریم نواز ہماری باس نہیں بہن ہیں : خواجہ سعد رفیق
کیس کی سماعت ملتوی ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا ’ ان سب کی حاضری لگالیں، پہلے راجہ ظفرالحق اور پھر پرویز رشید کا نام درج کریں‘۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’ ہمیں سنیارٹی کا پتہ نہیں لیکن خواجہ سعد رفیق کا نام بولڈ میں لکھیں‘۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ’کیا عدالتی حکم میں لوہے کے چنے کا بھی ذکر کریں‘۔
دھرنے ڈانس گھر میں تبدیل ہو گئے، ہم لوہے کے چنے ہیں چبایا نہیں جا سکتا: سعد رفیق
واضح رہے کہ پاناما کیس کی سماعت کے دوران خواجہ سعد رفیق نے ایک سیاسی جلسے کے دوران عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ ہم لوہے کے چنے نہیں ہیں، ہمیں چبانے کی کوشش نہ کرو، اگر ہمیں چباﺅ گے تو تمہارے دانت ٹوٹ جائیں گے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں