پی آئی اے کی جانب سے غیر ملکی کمپنی کو کارگو سروسز کا ٹھیکہ دینے کے نام پر 3ارعب روپے کے میگا فراڈ کا انکشاف

لاہور(تحقیقاتی رپورٹ :نعیم مصطفےٰ ) پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کی جانب سے ایک غیر ملکی کمپنی کو کارگوسروسز کا ٹھیکہ دینے کے نام پر کم و بیش 3ارب روپے کے میگافراڈ کا انکشاف ہوا ہے ۔2سال کے عرصے میں چیئرمین سے ڈائریکٹر تک کے اعلیٰ افسروں نے انڈر انوائسنگ کارگو فلائٹوں کی تعداد میں کمی، اوزان میں کمی بیشی اور مطلوبہ ائیرپورٹس کی بوگس اینٹریوں کے ذریعے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ۔ایک بے بنیاد اور غیر قانونی معاہدہ کر کے غیرملکی کارگو کمپنی کو نوازنے کے ساتھ ساتھ ذاتی جیبیں بھری جاتی رہیں، دنیا کے 8شہروں میں کارگو پہنچانے کے لئے دھوکہ دہی کی بنیاد پر جعلی کارگو انوائسز تیار ہوتی رہیں اور کرپشن و مفادات کی وہ داستانیں رقم کی گئیں کہ ا لامان و الحفیظ۔کرپشن کے منظر عام پرآنے پرقومی ائیر لائن کے مشیر سے پریذیڈنٹ اور نچلے عملے تک سارا سٹاف ہل کر رہ گیا اور بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع ہو گئیں۔ کارگو ڈویژن کمرشل ڈیپارٹمنٹ میں اعلیٰ سطحی انکوائری کے تناظر میں اجلاس کئے گئے اور غیر ملکی کمپنی کو دئے گئے ٹھیکے کی منسوخی پر غور خوض شروع کر دیا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اعلیٰ افسران کرپشن کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے اور معاملات دبانے کے لئے چیف فنانشل افسر اور ڈائریکٹر مارکیٹنگ کو معطل کر دیا جبکہ اس غیر قانونی ٹھیکے کی مخالفت کرنے اور کرپشن منظر عام پر لانے پر ڈپٹی جنرل منیجر کو بھی معطل کر دیا گیا ۔روزنامہ پاکستان کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن میں ایک غیر ملکی کمپنی میسرز لئیر کارگو (Leisure Cargo) کومئی 2016ء میں ایک معاہدے کے تحت پاکستان سے کارگو اٹھانے کا ٹھیکہ دیاگیا۔ یہ معاہدہ پی آئی اے کے ذیلی ادارے بلاک سپیس ایگریمنٹ کے نام پر کیا گیا، ابتدا میں اس معاہدے کی رقم 10.909 ملین امریکی ڈالر طے کی گئی جسے بعد میں بڑھا کر 12ملین ڈالر کر دیا گیا ۔یہ معاہدہ تین سال کے لئے تھا جس میں طے کیا گیا تھا کہ لیئر کارگو تین برسوں میں پاکستان کو تین کروڑ 18لاکھ 43ہزار 927امریکی ڈالر ادا کرے گی جو ایک ڈیڑھ ماہ تک ادائیگیاں کی جاتی رہیں۔ یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ جن پروازوں کے ذریعے مال بھجوایا جائے گا ان کی ہفتہ وار مانیٹرنگ کی جائے گی اور اس امر کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ کتنے ٹن کارگو کن ممالک کو بھجوایا جا رہا ہے ۔طے شدہ اگریمنٹ کے مطابق غیر ملکی کمپنی ہفتہ وار 228ٹن کارگو اٹھانے کی پابند تھی 33پروازوں کے ذریعے یہ سامان لندن، مانچسٹر، اوسلو، کوپن ہیگن سمیت 8ممالک کے مختلف شہروں کو بھجوایا جانا تھا۔ اس معاہدے کے تحت 33سے زائد فلائٹیں کارگو پاکستان سے لے کر جاتی رہیں لیکن کوئی ریکارڈ تیار نہ کیا گیا کہ کتنی فلائٹیں کہاں کہاں بھجوائی جا رہی ہیں ۔مانچسٹر سے اسلام آباد تک 6فلائٹس آپریٹ کر رہی تھیں لیکن ریکارڈ میں صرف 5ظاہر کی گئیں ISB-PHHچار فلائٹیں جاتی رہیں لیکن معاہدے میں تین دکھائی دی گئیں، اسی طرح ISB-PAR-MXPتین فلائٹیں کارگو لے کر جاتی رہیں لیکن انہیں دھوکہ دہی سے مکس کر کے 2ظاہر کیا جاتا رہا ہے جبکہ YY-Z-PAKچار فلائٹیں جاتی رہیں لیکن ان کی تعداد تین بتائی گئی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کارگو ڈویژن نے دوران انکوائری یہ اعتراضات اٹھائے کہ اس معاہدے کے ہفتہ وار شیڈول کی خلاف ورزی کی گئی اور استعداد کار بار بار تبدیل ہوتے رہے،کارگو بمپنگ کی گئی اور کارگواصل وزن سے کہیں زیادہ دکھایا گیا، اسی طرح اضافی پروازیں ظاہر کی گئیں جس سے پاکستان کے قومی خزانے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ۔معاہدے کی ایک شق کے تحت AWB، سٹاک ، گیزر لینڈ ، فیزاور CASSکی رجسٹریشن بھی نہیں کروائی گئی جو ULDSدئے گئے ان کی مس رپورٹنگ کی گئی ۔6THفریڈم ریٹس دئے گئے جو غیر قانونی اور خلاف ضابطہ تھے ۔انکوائری میں یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ طے شدہ ممالک سے زیادہ ملکوں کو کارگو بھجوایا گیا اس کا کوئی طریقہ کار بھی تحریری طور پر طے نہیں کیا گیا، اضافی فلائٹس کی قومی خزانے میں ادائیگی بھی نہیں کی گئی ،غیر ملکی کمپنی کی ان تمام بے ضابطگیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گزشتہ سال تک لیئر کارگو کمپنی کے ذمے پی آئی اے کے 23لاکھ 81ہزار 213امریکی ڈالر واجب الادا تھے جس کی آج تک پیمنٹ نہیں کی گئی ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معاہدے میں پی آئی اے نے مذکورہ کمپنی کی تمام آفرز اور شرائط من و عن منظور کر لیں اور کسی قسم کی بارگیننگ بھی نہیں کی جو کہ یکطرفہ عمل تھا اور خلاف ضابطہ بھی ۔بے ضابطگیا ں سامنے آنے پر پی آئی اے کا ذیلی ادارہ بلاکس فیز ایگریمنٹ خاموش تماشائی بنا رہا ، یہ دانستہ خاموشی اوپر سے ملنے والے احکامات کے بعد اختیار کی گئی ہے۔ ایک اور اعتراض یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ معاہدہ برطانوی قوانین کے تحت کیا گیا جس میں لاء آف لینڈ یعنی پاکستانی قوانین اور ضابطوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا مذکورہ کمپنی نے آج تک جتنی پیمنٹس تھیں وہ طے شدہ معاہدے کے عشر عشیربھی نہ تھیں جب پی آئی اے کے نئے صدر مشرف رسول نے چارج سنبھالا اور مذکورہ کارگو کمپنی کو ادائیگی کے مراسلے بھجوائے تو کمپنی کے افسران محض زبانی وعدے کرتے رہے تاہم 8فروری 2018ء کو جب ایک ای میل بھجوائی گئی اس کے جواب میں کراچی میں غیر ملکی کمپنی کے دو نمائندوں نے پی آئی اے سے رابطہ کر کے محض اتنا وعدہ کیا کہ ہم ساری ادائیگی کر دیں گے ا س دوران حیران کن امر یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنی کے کسی افسر نے آج تک اتنے بڑے معاہدے کے بعد پی آئی اے کا پاکستان میں کوئی دفتر وزٹ نہیں کیا جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ27ستمبر 2017ء سے 29ستمبر تک مذکورہ کمپنی اور پی آئی اے کے متعلقہ افسروں کی تین روزہ میٹنگ کی گئی تو چار روز تک اس میٹنگ کے منٹس پی آئی اے کو فراہم نہیں کئے گئے اور جب 2اکتوبر کو موصول ہوئے تو وہ فیصلوں سے بالکل مختلف تھے، پی آئی اے حکام نے انہیں تبدیل کرنے سے انکار کر دیا کمرشل ڈیپارٹمنٹ نے ان معاملات پر اعتراض اٹھایا اور اس امر کو مسلسل ہائی لائٹ کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ لیئر کارگو نے جو بینک گارنٹی دی تھی کارگو سروسز کی ادائیگیاں کئی گنا بڑھ چکی ہیں پی آئی اے کے ایکسٹرنل آڈٹ میں بھی اس معاہدے کی لاقانونیت ، غیر منصفانہ پن ، غلط طریقہ کار اور کک بیکس کی نشاندہی کی گئی اور اس معاملے کو حل کرنے کے لئے پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ نے کئی بار مختلف اقدامات بھی اٹھائے لیکن قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان ازالہ نہ کیا جا سکا، اب تک مذکورہ کمپنی نے ریکارڈ کے مطابق پی آئی اے کو جو ادائیگی کرنا تھی اس میں سے ایک کروڑ اکاسی لاکھ 69ہزار 6سو 34امریکی ڈالر کم دئے گئے ہیں جبکہ دیگر چارجز اور انکم ٹیکس وغیرہ بھی ادا نہیں کئے گئے ایکسٹرنل آڈیٹرز کے مطابق 18جنوری 2018ء تک لیئر کارگو نے پاکستان کے 19لاکھ 84ہزار 4سو امریکی ڈالر ز مجموعی طور پر دینے ہیں جو پاکستانی 2ارب سے ڈھائی ارب بنتے ہیں ۔دوران تحقیقات یہ بھی معلوم ہوا کہ کرپشن ، لاقانونیت اور بے ضابطگی کی ذمہ داری چیئرمین سمیت دیگر اعلیٰ افسران پر ڈالی گئی ہے جس کی مزید تحقیقات جاری ہے تاہم کارگو ڈویژن کے کمرشل ڈیپارٹمنٹ نے اس میگافراڈ کی تفصیلات پر مبنی 28صفحات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں ماہانہ بنیادوں پر ہونے والی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ کرپشن کا یہ سکینڈل منظر عام پر آنے پر چیئرمین پی آئی اے عرفان الٰہی نے چیف فنانشل آفیسر نیئر حیات سابق ڈائریکٹر مارکیٹنگ خرم مشتاق کو معطل کر کے محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جبکہ اس معاہدے کی لاقانونیت کا بھانڈا پھوڑنے والے ڈپٹی جنرل منیجر بلاکس سیپیس ایگریمنٹ طارق خان کو بھی معطل کر دیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ اب اس کرپشن کا بھانڈا پھوڑ نے کا مزہ چکھو ۔
میگافراڈ کا انکشاف

اپنا تبصرہ بھیجیں