تبدیلی سے پہلے تبدیلی

وہ بلند بانگ دعوے اور نسل نو سے تبدیلی اور عدل و انصاف کے وعدے اس وقت دھواں ہوگئے جب ایک عرصے کی امید بر آنے کے آثار نظر آئے تھے۔ ملک میں عام انتخابات سے قبل ٹکٹوں کی تقسیم پر جس قدر تحریک انصاف نے مایوس کیا، اس سے کہیں بڑھ کر تحریک انصاف کی قیادت کے رویّے میں آنے والی تبدیلی مایوس کن ہے۔

تحریک انصاف کی تبدیلی جن کمزور ترین خطوط پر استوار ہے اس سے نہیں لگتا کہ تحریک انصاف دو تہائی اکثریت حاصل کرکے بھی ملکی سطح پر کوئی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوسکے گی۔

اوّل تو تحریک انصاف کے پاس تربیت یافتہ ورکرز کی وہ فورس ہی موجود نہیں جو اقتدار میں آنے کے بعد اپنے نظریات کی پاسبان بن کر، قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر، اپنی قیادت کی معاون بن کر معاشرتی تبدیلی میں کوئی خاص کردار ادا کر سکے۔ دوسرے نمبر پر قیادت کا کردار تبدیلی کےلیے کیا ہوگا؟ اس کےلیے بھی ہم جب تحریک انصاف کی قیادت پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں وہی کردار تحریک انصاف کی اسٹیرنگ باڈی میں نظر آتے ہیں جو گزشتہ کئی ادوار سے جملہ مقتدر جماعتوں بشمول نواز لیگ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق میں رہے۔ آج وہی لوگ تحریک انصاف کی اگلی صفوں میں موجود نظر آتے ہیں۔
اب وہ لوگ جو برسوں تک جماعتیں بدل بدل کر اپنے اقتدار اور کرسی اقتدار کا حصول یقینی بناتے رہے، جن کی تمنا، طلب اور آرزو ہی کرسی اور اقتدار ہے، تبدیلی جن کا مقصد ہی نہیں، وہ کون سی تبدیلی لائیں گے؟ کس نظریئے کو پروان چڑھائیں گے؟ سمجھ سے بالاتر ہے۔

کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے کہ محترم عمران خان عمرہ ادائیگی کےلیے روانہ ہوئے تو اپنے دوست ذلفی بخاری کو بلیک لسٹ ہونے کے باوجود ای سی ایل میں شامل شخص کو بزور ساتھ لے کر جانا رعونیت، اقربا پروری اور بے جاپروٹوکول کی ایک الگ مثال ہے جہاں خصوصی طیارہ بک کروا کر عمرہ کی ادائیگی کی رسم نباہی گئی۔

سوشل میڈیا پر تبلیغی جماعت کے امیر محترم عبدالوہاب صاحب کی ایک جھوٹی خبر کہ تحریک انصاف کو ووٹ ڈالنا حرام ہے، وائرل ہونے پر جس طرح کا بیان بغیر تحقیق کے فواد چوہدری صاحب کی طرف سے جاری کیا گیا اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت تحریک انصاف والوں کے نظام عدل و انصاف کا پارہ کس سطح پر ہے جبکہ ابھی الیکشن میں کامیاب ہونا اور پھر اقتدار تک پہنچنا باقی ہے۔

اس روایتی سیاست اور کرپٹ نظام میں اقتدار کی ہوس تو پوری کی جا سکتی ہے مگر کسی مثبت تبدیلی کی تمنا ’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘ کے مترادف ہے۔

نظام کی تبدیلی ملکی استحکام اور اندرونی و بیرونی آزمائشوں سے نکلنے کےلیے از حد ضروری ہے۔

اداروں کو اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے احتساب اور اصلاحات کے ذریعے ملکی سطح پر انتخابات کےلیے ایسا ماحول بنانا چاہیے تھا کہ جس میں تعلیم یافتہ محب وطن، مخلص، نئی اور نوجوان قیادت سامنے لائی جاتی۔

کرپٹ اشرافیہ، حریص و خود غرض سیاست اور اہل سیاست سے نجات کی اس وقت شدید ضرورت تھی؛ جس ضرورت کو اداروں نے بھی پورا کرنا شاید مناسب نہیں سمجھا جس کے اثرات آئندہ ہمیں بھگتنا پڑیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں