شام میں لڑنے والے 10 جہادیوں کے بچوں کو واپس لے آئے: فرانسیسی حکومت

پیرس: (ویب ڈیسک)فرانس کی حومت نے اعلان میں انکشاف کیا ہے کہ شام کے ایک مہاجرکیمپ سے ایسے 10 فرانسیسی بچے ملک واپس بلا لیے ہیں، جن کے والدین شام میں بطور جنگجو شامل رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ شام کے مہاجر کیمپ سے راتوں رات جنگجوؤں کے 10 فرانسیسی بچوں کو گھر لے آئی۔ مارچ 2019 ء میں اسلامک اسٹیٹ گروپ کے شام کے اڈے سے بے دخل ہونے کے بعد سے فرانسیسی بچوں کی وطن واپسی کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دس فرانسیسی نابالغوں ، یتیموں یا انسانیت سوز صورتحال کا شکار ہونے والوں کی وطن واپسی کو ممکن بنایا ہے، جو شام کے شمال مشرق میں کیمپوں میں تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان بچوں کو فرانسیسی عدالتی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔ مکمل طبی علاج کیا جا رہا ہے اور انہیں ضروری معاشرتی خدمات فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم فرانسیسی وزارت نے ان بچوں کے والدین سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یاد رہے کہ فرانس نے اب جنگ زدہ شام سے کل 28 بچوں کو وطن واپس بلا لیا ہے۔ خانہ جنگی کے شکار ملک شام جہاں سینکڑوں فرانسیسی شہری داعش کے باغیوں کے ساتھ لڑنے کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر گئے تھے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروپوں نے پیرس حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کم سے کم ان نابالغوں کو شام سے جلد گھر واپس لائے جنہیں ان کے والدین شام کے سب سے زیادہ تنازعہ میں گہرے علاقے میں رہنے کے لیے انہیں اپنے ساتھ لائے تھے یا یہ بچے لڑائی کےدوران وہاں پیدا ہوئے تھے۔

خبر رساں ادارے نے بتایا کہ اندازوں کے مطابق شام میں کردوں کے زیر انتظام کیمپوں میں 300 فرانسیسی بچوں میں سے زیادہ تر اپنی ماں یا باپ کے ساتھ ہیں اور فرانس نے اصرار کیا ہے کہ ان فرانسیسی شہریوں کو مقامی انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس موقف سے فرانسیسی جنگجوؤں کے اہل خانہ کو غیر انسانی سلوک اور نفسیاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دریں اثناء وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے اپنی طرف سے کیے گئے آپریشن میں تعاون کرنے پر کرد رہنماؤں کا شکریہ‘‘ بھی ادا کیا ہے کیونکہ خاص طور پر ان کردوں علاقوں میں خطرناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے جہاں یہ بچے موجود تھے اور فرانسیسی حکام کو وہاں کے مقامی حکام نے اختیارات دیے کہ وہ ان بچوں کو وطن واپس بلا لیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین نے بھی انتباہ کیا ہے کہ الھول کے مہاجر کیمپ میں طبی اور حفظان صحت کی نا گفتہ بہ صورتحال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں