بہترین کیرئیر کون سا ہو سکتا ہے؟اپنے ہاتھ میں دیکھیں لکیریں کچھ کہہ رہی ہیں

اکثر لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش اور صلاحیت کے برعکس کسی ایسے پیشے کو اپنا لیتے ہیں جس میں پھر وہ مس فٹ ہوکر بے چین رہتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر کام دلچسپی کا نہ ہو تو انسان کا جسم اور ذہن بہت جلد اپنی توانائی کھو بیٹھتا ہے ۔ اسی لیے پیشے کا انتخاب ایک اہم فیصلہ ہوتا ہے۔ ایک نوجوان کے لیے جو بارہویں جماعت کے بعد آگے تعلیم کا ارادہ رکھتا ہو یہ ضروری ہے کہ اپنے مستقبل کے پیشے کے بارے میں اس کا ذہن بالکل واضح ہو۔اس مرحلے میں انسان کا ہاتھ اس کی سب سے زیادہ مدد کرتا ہے۔ بیشتر نوجوان یہ فیصلہ شعوری طور پر خود نہیں کرتے بلکہ حالات کا دھارا انھیں جس سمت بہا کر لے جائے وہ بہتے چلے جاتے ہیں۔ممکن ہے یہ کوئی ایسا پیشہ ہو جو ایک نوجوان کی صلاحیتوں، تعلیم اور طبعی میلان کے مطابق ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے اس کی پسند کے مطابق کام نہ ملے اور پھر یہ کام اس کے لیے ذہنی اور جسمانی ناآسودگی کا باعث بن جائے۔ بعد کی پریشانی سے بہتر ہے کے وہ حالات،خاندان،دوست،رشتے داروں کے مشورے یا خواہشات کے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت اپنا کیریر خود منتخب کریں تا کہ نوکری میں دلی اور ذہنی سکون حاصل کر سکیں۔
اب میں آپ کو ہاتھ میں موجود کیرئیرکی علامات سے آگاہ کرتا ہوں ۔ذرا غور سے دیکھیں،جیسا کہ ہاتھ کی تصویر میں دکھایا گیا ہے اِس کو نوٹ کریں۔
۱ جیسے اس میں خطِ تقدیر ابھار مشتری کی طرف مڑ گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کی عزت دولت اور شہرت بہت ہوگی اور یہ اعلیٰ عہدے پر ہوگا۔ ایسے لوگ سیاست ،فلسفہ یا قانون دان کے شعبے میں جا سکتے ہیں۔
۲۔ اگر خطِ تقدیر ابھار زحل کی طرف جائے تو ایسے انسان کی ترقی عزت اور وقار درمیانے درجے کا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ٹیچینگ،بینکنگ،مارکیٹگ میں جا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ اچھے کاروباری بھی ہوتے ہیں۔
۳۔اگر خطِ تقدیر ابھار شمس کی جانب جائے تو یہ بہت زیادہ شہرت حاصل کرنے کی علامت ہے۔ ایسے لوگ آرٹ،موسیقی،شاعری،اداکاری میں جاسکتے ہیں۔اچھے مصنف ثابت ہوتے ہیں۔
۴۔اگر خطِ تقدیر ابھار عطارد تک جائے تو ایسے لوگ بہت تیز دماغ ہوتے ہیں۔ ان کو بات کرنے کا فن ہوتا ہے۔ایسے لوگ مارکیٹنگ ، میڈیا اور زراعت میں جا سکتے ہیں۔ (وللہ العلم الصواب)۔
(واصف حسین بچپن سے پامسٹری کے دلدادہ ہیں اوراس موضوع پر تحقیق کرتے رہتے ہیں۔ان کا تعلق ملتان سے ہے۔ )

اپنا تبصرہ بھیجیں