سعودی فوج نے اپنے ہی فوجی کو پکڑ کر 23 سال کے لئے جیل میں ڈال دیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) شدت پسند تنظیموں سے تعلقات و نظریاتی حمایت کے الزام میں گرفتار ہونے والے سعودی فوجی کو بغاوت کا مرتکب قرار دے کر 23 سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
گلف نیوز کے مطابق تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فوجی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے نظریات اپنا چکا تھا اور نہ صرف اسامہ بن لادن کا مداح تھا بلکہ داعش کا حمایتی بھی تھا۔ وہ اسلامک نیشن پارٹی کی تقریبات میں بھی شمولیت اختیار کرچکا تھا جو خلیجی حکومتوں کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

مقامی اخبار اوکاز کے مطابق اس فوجی نے اپنے ملک کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے ملک دشمن پارٹی کا ایک دفتر بھی قائم کیا تھا۔ اس دفتر کے قیام کا مقصد نوجوانوں کو حکومت کے خلاف احتجاج پر ابھارناتھا۔ عدالت کی جانب سے حکم جاری کیا گیا کہ اس فوجی کے پاس موجود ہتھیار اور لیپ ٹاپ ضبط کرلئے جائیں اور اس کا ٹویٹر اکاﺅنٹ بھی بند کردیا جائے۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے شدت پسندی کے خاتمے کے لئے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کررکھا ہے جس کے دوران دہشتگرد تنظیموں سے تعلق رکھنے یا ان کے نظریات کا پرچار کرنے والوں کا قلع قمع کیا جارہا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے یا ان کے نظریات کا پرچار کرنے والوں کے لئے سخت ترین سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں