فلسطین جیسی کمزور اور محکوم ریاست کے سربراہ نے امریکی صدر کے لاڈلے داماد کا فون سننے سے انکارکردیا

یروشلم(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے اچھے بھلے طاقتور ممالک کے سربراہان بھی امریکی صدر کو ناراض کرنے کی غلطی نہیں کر سکتے لیکن فلسطین جیسی کمزور اور محکوم ریاست کے سربراہ نے امریکی صدر کے لاڈلے داماد کا فون سننے سے انکار کر کے قومی حمیت اور خودداری کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین محمود عباس نے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی فون کال سننے سے صاف انکار کردیا۔ ویب سائٹ اسرائیل نیشنل نیوز کے مطابق جیرڈ کشنر کی فون کال آئی تو محمود عباس کے سیکرٹری نے انہیں واشنگٹن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے نمائندے سے بات کرنے کو کہا۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کا یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا گیا سخت ترین جواب تھا، کیونکہ انہوں نے واشنگٹن میں فلسطینی اتھارٹی کے سفارتی مشن کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
امریکہ کی جانب سے فلسطینی مشن کو بند کرنے کی دھمکی گزشتہ ہفتے دی گئی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے نہیں بیٹھے گی تو واشنگٹن میں اس کا مشن بند کردیا جائے گا۔ انہوں نے اس متوقع اقدام کی وجہ اس امریکی قانون کو بتایا ہے جس کے مطابق اگر فلسطینی اتھارٹی کسی اسرائیلی کو جنگی جرائم کے تحت سزا دلوانے کے لئے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا رخ کرتی ہے تو امریکہ میں اس کا مشن بند کیا جاسکتا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ستمبر میں محمودعباس نے یہ سرخ لکیر اس وقت عبور کرلی جب انہوں نے اسرائیلیوں کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے سامنے رکھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں