ملک میں جتنی تباہی سپریم کورٹ نے مچائی اتنی کسی اور نے نہیں،جاوید ہاشمی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماء اور سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے پاکستان کو جس طرح کے بحران کا سامنا آج ہے ملکی تاریخ میں کبھی نہیں تھا اور ہم زندہ رہنے کیلئے کسی نہ کسی بحران کی تلاش میں رہتے ہیں، جتنی تباہی اس ملک میں سپریم کورٹ نے مچائی اتنی کسی اور نے نہیں مچائی ، میں موجودہ سپریم کورٹ کی بات نہیں کر رہا معلوم ہے اگر کوئی بات کی تو توہین عدالت ہو جائے گی ۔ موجودہ چیف جسٹس نے تو ائیر پورٹ پر سر عام میرا ہاتھ چوما تھا میں ان کیخلاف کوئی بات کیسے کر سکتا ہوں ۔کئی ججوں نے قسمیں کھا کر ایک سے زائد پلاٹ لیے، توبہ توبہ، میں موجودہ ججوں کی با ت نہیں کر رہا یہ تو ولی اللہ ہیں، آئین سے کھیلنا اور مرضی سے تبدیل کرنا کچھ طبقات کا موروثی کام ہے، ہمارے تین سابق فوجی سربراہ ملک سے باہر تھنک ٹینکس میں بیٹھے ہیں، جن لوگوں کو ہم اپنے جگر کی بوتلیں لگاتے ہیں وہ سبکدوش ہو کر دوسروں کی خدمت کرتے ہیں ، نواز شر یف کی نا اہلی پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں انصاف نہیں کیا ۔گزشتہ روز اسلام آباد میں ملکی سیاسی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہو ئے انکا مزید کہنا تھا یہ آئین کے بغیر چلنے والی سرزمین ہے اور کہا جاتا ہے ہم کسی بحران کی طرف جا رہے ہیں، ماضی میں ہونیوالی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا بد قسمتی ہے 1973اور 1956میں اپنی مرضی کے آئین بنائے گئے اور آئین کو تبدیل کرنے کیلئے سول و عسکری قوتیں اس کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتی ہیں ۔ ذو ا لفقار علی بھٹو نے ملک کو ایمرجنسی پر چلایا جس کے بعد بعد ضیا الحق آئے اور وہ تو خود آئین تھے ۔ ہم وہ قوم نہیں بن سکے جو اپنے آئین کا احتر ا م کرتی ہیں اورگزشتہ 70سال میں کبھی ایسا بحران نہیں آیا جو آج ملک میں ہے ۔ عدالت عظمی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پرویز مشرف نے بھی دو مرتبہ آئین توڑا اور عدالت عظمی نے مشرف کو آئین میں تبدیلی کا اختیار دیا، آئین سے کھیلنا اور مرضی سے تبدیل کرنا کچھ طبقات کا موروثی کام ہے۔ پی ٹی آئی سے علیحدگی سے متعلق انکا کہنا تھا میں نے خود کش حملہ کرکے اپنی نشست چھوڑی تھی، اگر میں استعفیٰ نہ دیتا تو پارلیمنٹ کا آخری دن ہوتا ۔ مجھے مسلم لیگ ن نے فارورڈ بلاک بنانے کا مشورہ دیا تھا جس پرمیں نے انکار کیا حالانکہ پی ٹی آئی کے15 ا ر ا کین اسمبلی کی حمایت مجھے حاصل تھی ، لیکن میں عمران خان کی سیاست ختم نہیں کرنا چاہتا تھا ۔2014میں طاہر القادری اور عمران خان کو اکٹھا کرنیوالوں نے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سے بھی معاملات طے کر لیے تھے۔ میڈیا سے اپیل ہے اپنے پروگراموں میں سابق فوجیوں کو نہ بلائیں کیونکہ ٹی وی دیکھ کر لگتا ہے اب بھی مشرف کا دور ہے۔ فوج کی ضرورت ملک کے دفاع کیلئے ہے، ترکی نے اپنی فوج کو کہا بیرکوں میں بیٹھیں۔ مشرف نے نیب ایک پارٹی بنانے کیلئے قائم کیا تھا اگر سیاستدانوں نے احتساب کا ادارہ نہ بنایا تو نیب کو ہی بھگتنا پڑے گا ۔1998میں اسوقت کے فوج کے سربراہ ایٹمی دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے جس کی گواہی ڈاکٹر عبدالقدیر نے دی ۔ مشرف کے نقطہ نظر پر انھوں نے کہا کہ نواز شریف کارگل جنگ کے دوران امریکہ سے واپس آئے تو مشرف چکلالہ میں ان کی آمد پر ناچتے رہے اور نعرے لگا رہے تھے نواز شریف قدم بڑھا ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ انھوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا خدا کیلئے ایک دوسرے کو آنکھیں مت د کھا ؤ ، ہمارے لیے پاکستان کے عوام آقا ہیں اور کوئی نہیں، نواز شریف آسمان سے اترا اوتار نہیں اور نہ ہی کوئی ولی اللہ ہیں، غلطی سب سے ہوتی ہے لیکن بندوق رکھ کر کسی کو عہدے سے نہیں اتارا جا سکتا، پاکستان میں اداروں کے درمیان تناؤ کب نہیں تھا ۔ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے لیکن سزا کیلئے ادارے ہونے چاہئیں، فوج نے تو احتساب کے ادارے بنانے سے نہیں روکا۔ مشرف بھگوڑا ہے اور جس نے مشرف کو پکڑ نے کا کہا وہ پورا خاندان خود پکڑا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں