پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ”آئی ایس آئی“ نے جاسوسی کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے،بھارتی میڈیا کادعویٰ

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی ”آئی ایس آئی“ نے جاسوسی کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بھارتی خواتین کو پاکستانی مردوں کے جال میں پھنسا کر ان سے شادی کر کے اہم راز تک رسائی حاصل کر سکیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے ”انڈیا ٹوڈے“ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی نے بھارتی پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کیلئے نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے،اور اس میں شادی جیسے مقدس رشتے کو داغدار کیا جا رہا ہے۔
بھارتی تحقیقات میں یہ ”انکشاف“ ہوا ہے کہ آئی ایس آئی ’این آر آئی‘ (نان ریزیڈنٹ انڈین) باشندوں کو بھارتی خواتین کو لبھانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ جبکہ ماضی میں آئی ایس آئی نے بھارتی فوج کے افسران کو اپنے جال میں پھنسانے کیلئے خوبرو دوشیزاﺅں کا استعمال کیا تھا۔
بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ایجنسی بھارتی پنجاب میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئی ایس آئی نے اپنے جاسوسوں کو بھارتی پنجاب کے باسیوں کا رہن سہن اور مقامی زبان روانی کے ساتھ بولنے کی تربیت دی ہے۔
بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ”پاکستان کے خالصتانی مہاجروں کو اس مشن کیلئے قائل کیا گیا ہے۔ یہ جاسوس جو خود کو ’نان ریزیڈنٹ انڈین‘ کہتے ہیں، کئی غیر ممالک کی شہریت کے حامل ہیں۔“
بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 12 اکتوبر کو جالندھر سے ایک پاکستانی جاسوس احسان الحق کو گرفتار کیا گیا جس کے پاس آسٹریا کا پاسپورٹ تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جاسوس پہلے نیپال میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اترپردیش کے راستے پنجاب میں آ جاتے ہیں۔ یہ اپنے ہدف (منتخب شدہ لڑکی) سے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں اور پھر خود کو این آر آئی ظاہر کر کے رابطہ نمبر کا تبادلہ کرتے ہیں۔
بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ جاسوس مقامی خواتین سے ملتے ہیں اور پھر انہیں شادی کی پیشکش کرتے ہیں۔ احسان الحق بھی 2011ءمیں فیس بک کے ذریعے بلوندر کور سے ملا تھا، جو موکوندپور کی رہائشی ہے۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ احسان 2012ءمیں جالندھر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور مبینہ طور پر سکھ خاتون بلوندر سے شادی کر لی۔
وہ 2012ءسے 2017ءکے درمیان پانچ مرتبہ بھارت آیا اور جب اسے گرفتار کیا گیا تو وہ صرف تین مہینے کے ویزے پر بھارت آیا تھا جس کی معیاد 29 نومبر 2017ءتک ہے جبکہ وہ 30 اگست کو جالندھر پہنچا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احسان الحق طلاق یافتہ ہے جو پاکستان سے سعودی عرب گیا اور آسٹرین خاتون سے شادی کی اور شادی کے بعد آسٹریا کی شہریت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ احسان نے شادی کے تین سال بعد 2009ءمیں آسٹرین خاتون کو طلاق دیدی۔ احسان کو بھارت میں انڈین پینل کوڈ 419,420 اور 471 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
بھارتی اخبار کا دعویٰ ہے کہ احسان نے سکھ خاتون کیساتھ شادی کے بعد بھارتی آدھار کارڈ اور پی اے این کارڈ بھی حاصل کیا جبکہ جعلی دستاویزات کے ذریعے جالندھر کے قریب علی پور گاﺅں میں ایک پلاٹ بھی خریدا۔ احسان کو مخبری پر گرفتار کیا گیا جس نے تحقیقات کے دوران کسی قسم کا کوئی اعتراف تو نہیں کیا مگر سیکیورٹی ایجنسیز کو یقین ہے کہ اس نے سکھ خاتون سے شادی جاسوسی کے مقصد سے کی۔
بھارتی اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ سات سال قبل بھی دو مبینہ جاسوسوں کو جالندھر اور فیروزپور سے گرفتار کیا گیا تھا جو مقامی خواتین کو لبھانے کی کوشش میں تھے۔ 21 اگست 2010ءکو جالندھر پولیس نے محمد عالم کو گرفتار کیا جو نیپال سے بھارت میں داخل ہوا تھا اور ٹریفک انٹرسیکشن پر گول گپے بیچتا تھا۔

اس نے تحقیقات میں اعتراف کیا تھا کہ اسے دیگر جاسوسوں کے ساتھ خواتین کیساتھ دوستی کرنے اور پھر انہیں شادی پر رضامند کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ اور اس کا مقصد بھارتی پاسپورٹ کیساتھ دیگر دستاویزات کا حصول تھا۔ فیروز پور پولیس نے 2010ءمیں ہی ایک اور جاسوس راجاؤلا کو بھی گرفتار کیا تھا جس پر الزام تھا کہ اس نے 3 مقامی خواتین کو اپنے جال میں پھنسایا۔
راجاﺅلا بھی نیپال سے بھارت داخل ہوا اور پاسپورٹ کے حصول کیلئے درکار لازمی دستاویزات مثلاً ووٹر آئی ڈی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے میںبھی کامیاب ہو گیا تھا جبکہ اس نے فیروزپور کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں کیٹرنگ کا کاروبار بھی شروع کر رکھا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں