‘ سانحہ ساہیوال میں زخمی عمیر نے پٹرول پمپ پر عملے سےدرخواست کی میری بہنیں صبح سے بھوکی ہیں

ملتان (ویب ڈیسک) سانحہ ساہیوال میں قتل ہونے والے ذیشان ٹیکسی ڈرائیور کے علاوہ لاہور میں کرائے پر مکان دلوانے کا کاروبار کرتا تھا جبکہ خلیل کی پرچون کی دکان تھی، دونوں آپس میں گہرے دوست تھے، والدین کے قتل کے بعد زخمی عمیر خلیل نے پٹرول پمپ کے عملے سے استدعا کی کہ اس کی بہنیں صبح سے بھوکی ہیں، انہیں کھانے کے لیے کچھ دے دیں۔

روزنامہ خبریں کے مطابق لاہور سے 19جنوری بروز ہفتہ صبح 4گاڑیاں گگومنڈی کےلئے روانہ ہوئیں، گگومنڈی کی ارائیں فیملی سے تعلق رکھنے والا خاندان اس میں سوار تھا، جب افراد بڑھ گئے اور گاڑیاں کم پڑ گئیں تو ذیشان کی گاڑی کرائے پر لی گئی جو کہ خلیل کا دوست تھا۔ لاہور سے گاڑی چلی، ساہیوال اور اوکاڑہ کی سرحد پر پہنچی، ٹال پلازہ کراس کیا تو ان کے انتظارمیں کھڑی سی ٹی ڈی کی گاڑیاں ان کے پیچھے لگ گئیں، قادرآباد اور یوسف والا کے درمیان ٹال پلازہ سے اڑھائی کلومیٹر کے فاصلے پر جب سڑک نے دو ٹرن لئے اوروہاں تمام گاڑیوں کی رفتار آہستہ ہوجاتی ہے تو سی ٹی ڈی کی گاڑی سے آلٹو گاڑی نمبر ایل ای اے 6683-12 ماڈل 2012ءرنگ سفید ہزار سی سی کے اگلے ٹائر پر برسٹ مارا گیا جس سے ٹائر پھٹ گیا، گاڑی کنٹرول سے باہر ہوئی اور دائیں طرف کو گھوم گئی اور ڈیوائڈر سے ٹکرا گئی، گاڑی میں سے سی ٹی ڈی کے 9افراد اترے، 3سی ٹی ڈی والوں نے اوکاڑہ سے ساہیوال جانے والی ہرقسم کی ٹریفک کو روک لیا جبکہ 3اہلکاروں نے دوسری جانب ملتان سے لاہور جانے والی سڑک پر ہرقسم کی ٹریفک کو روک لیا۔

باقی تین اہلکاروں نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس موقع پر ایک شخص ہدایات دیتا رہا، گاڑی پر سب سے پہلے فائرنگ فرنٹ سے کی گئی اور فرنٹ پر بیٹھے دونوں افراد خون سے نہا گئے، عورتوں اور بچوں کے چیخنے کی آوازیں دونوں طرف کھڑی گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں تک پہنچیں جو سارے اس سین کو دیکھ رہے تھے، فرنٹ سے فائرنگ کے بعد ایک شخص گاڑی کے دائیں جانب آگیا اور اس نے سیٹ بیلٹ میں بندھے ذیشان پر فائرنگ کی تو وہ خلیل کی گود کی طرف جھک گیا، پھر وہ فائرنگ کرنے والا اہلکار دوسری جانب آیا اور اس نے پہلے سے مردہ خلیل پر فائرنگ کی جبکہ تیسرے اہلکار نے پیچھے بیٹھی خاتون پرفائرنگ شروع کردی۔

خاتون چاروں بچوں پر جھک گئی، خاتون گاڑی کی لیفٹ سائیڈ پر بیٹھی تھی جبکہ چاروں بچے بائیں طرف تھے۔ خاتون نے آگے گر کر ماں کی ممتا کی قربانی دی اور تمام گولیاں اپنے اوپر لے لیں، بچی کو گود میں چھپانے کی کوشش کی مگر اس دوران بچی کے دل میں گولی پیوست ہو چکی تھی، تین بچے معجزانہ طور پر بچ گئے۔عمیر مقتولہ اریبہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا،ایک گولی عمیر کے کولہے میں لگی، ان چاروں کو تسلی سے قتل کرنے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے 3بچوں کو گاڑی سے نکالا تو ایک بچی کے ہاتھ میں دودھ کا فیڈر تھا، انہیں سی ٹی ڈی کے ڈالے کے فرنٹ پر بٹھایا اور وہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر دور بائیں جانب واقع قادرآباد فلنگ سٹیشن کے قریب ٹرانسفارمر والے ایک کھمبے کے نیچے پھینک دیا اور گاڑی بھگا دی۔ وہاں لکڑیاں اکٹھی کرتی دو خواتین نے شور مچا دیا جس پر پٹرول پمپ کے لڑکے آئے اور دو بچیوں اورایک بچے کو پٹرول پمپ پرلے گئے جہاں انہوں نے 1122کو کال کرکے مدد مانگ لی۔

عمیر کی زخمی ٹانگ پر کپڑا باندھا گیا، عمیر نے روتے ہوئے پٹرول پمپ کے کیشیئر سے کہا کہ میری بہنیں صبح سے بھوکی ہیںِ، ان کو کھانے کےلئے کچھ دے دیں، تھوڑی دیر بعد 1122کی گاڑی آگئی جس نے انہیں ہسپتال پہنچا دیا۔ اس دوران چاروں افراد کو قتل کرنے والی گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ انہوں نے اگلی سیٹوں سے دونوں افرادکی لاشیں نکال کر زمین پر لٹا دیں اور پیچھے بیٹھی نبیلہ کی لاش کو گاڑی سے گھسیٹا تو اس کی شلوار اتر گئی، بعد میں بچی کی لاش گاڑی سے گھسیٹی گئی پھر ان لاشوں کو گاڑی میں ڈال دیا، جونہی گاڑیاں وہاں سے لاشیں لیکر رخصت ہوئیں تو پیچھے سے خلیل کے ساتھ چلنے والی چوتھی گاڑی بھی پہنچ گئی، اس سے قبل دو گاڑیاں آگے نکل چکی تھیں جن میں ایک ساہیوال بائی پاس کے قریب اور دوسری ہڑپہ کے قریب تھی۔ سی ٹی ڈی والوں نے پہلا مو¿قف یہ اختیار کیا کہ انہوں نے اغوا کاروں کے چنگل سے 3بچوں کو بازیاب کرا کر چاروں اغوا کاروں کو ماردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں