1980 کی دہائی کی پالیسی ختم کرکے تمام لوگوں سے ہتھیار واپس لیے جائیں اور صرف حکومت کے پاس ہتھیار ہونے چاہئیں

اسلام آباد (سٹی نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ساری اپوزیشن حکومت کے ساتھ متفق ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں ہونی چاہئیں، اسی مقصد کیلئے پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا ہے۔
امریکی ٹی وی سی این این کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئیں اور نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا جس میں یہ طے پایا کہ تمام دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، 1980 کی دہائی کی پالیسی ختم کرکے تمام لوگوں سے ہتھیار واپس لیے جائیں اور صرف حکومت کے پاس ہتھیار ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی افغانستان میں پالیسی فلاپ رہی ہے، امریکہ مزید فوجی بھیج کر کیا کرلے گا؟ جب ڈیڑھ لاکھ نیٹو فوجی کچھ نہیں کر سکے تو امریکی فوجی آ کر کیا کر لیں گے؟ امریکہ نے اپنے دشمن کو مارنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ انہیں اپنی یہ پالیسی بدلنی ہوگی اور افغان مسئلے کے پر امن حل کیلئے پڑوسیوں کو بھی شامل کرنا ہوگا، امریکہ کو چین، روس اور ایران کو بھی مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے بارے میں سوچنا چاہیے کیونکہ جب تک یہ افغانستان میں موجود ہیں مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، آج تک امریکہ نے افغانستان میں کسی قومی حکومت کی تشکیل کیلئے سنجیدہ کوشش نہیں کی، امریکہ کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ پڑوسی ممالک کو ساتھ ملا کر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے اور افغانستان میں قومی حکومت تشکیل دی جائے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ بطور کھلاڑی وہ ہر وقت فتح کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں، آئندہ چند ماہ میں پاکستان میں انتخابات ہونے والے ہیں اور ان کی پارٹی کے الیکشن جیتنے کے بہت زیادہ چانسز ہیں، اگر ان کی پارٹی انتخاب جیتی تو وہی وزیر اعظم بنیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں