گوادرصرف ایک نام نہیں بلکہ بلوچی زبان کے دو لفظوں ’گوات‘ اور ’در‘ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ’ہوا کا دروازہ‘ ہے

گوادر (نیوز ڈیسک) گوادر شہر اپنی بندرگاہ اور دفاعی اہمیت کے لحاظ سے دنیا بھرمیں مشہور ہے لیکن سی پیک منصوبہ شروع ہونے کے بعد اس کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے، پاکستان کا بچہ بچہ گوادر کو مستقبل کے اہم شہر کے طور پر دیکھتا ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ لفظ ’گوادر‘ کے معنی کیا ہیں؟ اگر نہیں تو چلیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
وکی پیڈیا کے مطابق گوادر کو یکم جولائی 1977 کو بلوچستان کے ضلع کا درجہ دیا گیا جس کا رقبہ 12 ہزار 637 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے ۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 2 لاکھ 63 ہزار 514 نفوس پر مشتمل ہے۔ گوادر کی اہمیت میں اس کی طویل ساحلی پٹی اضافہ کرتی ہے جو 600 کلومیٹر سے بھی زیادہ طویل ہے اور بحیرہ عرب میں خلیج عمان کے ساتھ ملتی ہے۔ اس کے علاوہ بندرگاہ بھی گوادر کی اہمیت کو چار چاند لگاتی ہے، یہ گہرے گرم پانی کی بندرگاہ ہے اور ایسی بندرگاہ دنیا کے اکثر ممالک کے پاس نہیں ہے۔
گوادرصرف ایک نام نہیں بلکہ بلوچی زبان کے دو لفظوں ’گوات‘ اور ’در‘ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ’ہوا کا دروازہ‘ ہے۔ گوادر میں جس طرح ترقی ہو رہی ہے اور آئندہ چند سالوں میں اس سے پاکستان کو جو فائدہ پہنچنے والا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ واقعی پاکستان کیلئے ٹھنڈی ہوا کا دروازہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں