”شاہد مسعود نے پرچی پر نام لکھ کر چیف جسٹس کو دی تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے واپس کر دی کہ۔۔۔“ سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران شاہد مسعود نے پرچی پر وزیر کا نام لکھ کر دیا تو چیف جسٹس نے وہ واپس کیوں کر دی؟ حقیقت سامنے آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران علی کے مبینہ بینک اکاﺅنٹس سے متعلق دعوے سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور پھر ڈاکٹر شاہد مسعود کو بھی سپریم کورٹ طلب کیا جنہوں نے وہاں پیش ہو کر دستاویزات جمع کرائیں اپنا موقف پیش کیا۔

زینب کی لاش جس جگہ سے ملی اس سے کتنے فاصلے پر موجود مکان میں اسے رکھا گیا؟ گرفتار افراد نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا، مکان پر چھاپہ مارا تو پولیس والوں کے پیروں تلے بھی زمین نکل گئی
سماعت کے دوران ڈاکٹر شاہد مسعود کو اپنے دعوے کے مطابق چائلڈ پورنو گرافی کے بین الاقوامی گروپ کیساتھ عمران کے تعلق اور اس کی سرپرستی کرنے والے وفاقی وزیر اور ان کے دوست کا نام لکھنے کیلئے کاغذ اور قلم دیا گیا جس پر انہوں نے نام لکھ کر جب یہ کاغذ واپس کیا تو چیف جسٹس نے انہیں وہ کاغذ واپس کر دیا کیونکہ انہوں نے صرف ایک نام لکھا تھا۔
نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق ” چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کے اگلے روز صبح 9 بجے نوٹس لیا اور ڈاکٹر شاہد مسعود کو 11 بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا جس پر شاہد مسعود ساڑھے گیارہ بجے ذاتی طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے سب سے پہلے حکم دیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی ویڈیو چلائی جائے جس پر کھلی عدالت میں مکمل ویڈیو چلائی گئی جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے انہیں روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ آپ نے بہت بڑی بات کر دی ہے اگر آپ کی بات غلط ثابت ہوئی تو یہ اچھا نہیں ہو گا۔
چیف جسٹس نے اس کے بعد کہا کہ کاغذ ہمارا ہو گا اور قلم بھی ہمارا ہو گا، یہ دونوں چیزیں ہم آپ کو دے رہے ہیں، آپ سب سے پہلے تو وہ 2 نام لکھ کر بتائیے کہ وہ کون سا وفاقی وزیر اور اس کا دوست ہے جو کہ اس گینگ کا سرغنہ ہے اوران کی سرپرستی کر رہا ہے، ڈاکٹر شاہد مسعود کے نام لکھنے کے دوران چیف جسٹس نے روسٹرم پر کھڑے دیگر وکلاءکو ہٹا دیا اور ڈاکٹر شاہد سے کہا کہ وہ نام لکھ کر کاغذ فولڈ کر کے انہیں دیدیں۔
ڈاکٹر شاہد نے فولڈ کر کے چیف جسٹس کو دیا جنہوں نے اسے پڑھا اور کہا کہ آپ نے صرف ایک بندے کا نام لکھا ہے، آپ کا دعویٰ دو لوگوں کا ہے لہٰذا یہ ہم آپ کو واپس کر رہے ہیں، آپ دوسرے کا نام بھی لکھ کر دیں جس پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے دوسرا نام بھی لکھ کر دیا۔
اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ آپ کے پاس جو کاﺅنٹس کی تفصیلات اور دستاویزات ہیں وہ کہاں پر ہیں؟ جس پر انہوں نے صرف ایک کاغذ ان کے سامنے رکھا اور کہا کہ یہ ان 37 اکاﺅنٹس کی تفصیلات ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شاہد مسعود سے کہا ہے کہ آپ نے چار چیزوں کو ثابت کرنا ہے ۔ پہلے تو اس دعوے کو ثابت کرنا ہے کہ ملزم عمران کے 37 اکاﺅنٹس ہیں جن میں سے اکثر فارن اکاﺅنٹس ہیں اور کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز بھی ثابت کرنی ہیں۔ پھر آپ نے انٹرنیشنل گینگ کے ساتھ اس کا تعلق بھی ثابت کرنا ہے اور یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ ایک وفاقی وزیر اس کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے جتنے بھی دعوے کئے ہیں اس کے حوالے سے جتنی بھی دستاویزات آپ کے پاس ہیں وہ اداروں کو دیں۔

مبینہ بینک اکاؤنٹس کے معاملے پر ملزم عمران علی کا موقف بھی سامنے آ گیا ، بڑی خبر آ گئی
یہ بھی پڑھیں۔۔۔17 سالہ چینی لڑکی آئی فون 8 کی خاطر کنوارہ پن بیچنے کیلئے ہوٹل پہنچی تو کمرے میں داخل ہوتے ہی چار مرد آ گئے، خطرہ دیکھ کر بھاگنے لگی تو مردوں نے پکڑ لیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر کوئی لرز اٹھا مگر حقیقت سامنے آئی تو سب عش عش کر اٹھے
چیف جسٹس آف پاکستان نے پہلے سے ہی زینب قتل کیس کی تحقیقات میں مصروف جے آئی ٹی کو حکم دیا ہے کہ 48 گھنٹے کے اندر ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی تحقیقات کر کے ہمارے سامنے رپورٹ رکھی جائے۔ چیف جسٹس کو جب یہ بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی اس بات پر نوٹس لے لیا ہے اور کمیٹی بنا دی ہے تو انہوں نے کہا کہ جب ہم نے نوٹس لیا تو وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی یاد آ گیا ہے، اب پیر کے روز کھلی عدالت کے اندر اس کیس کی سماعت ہو گی اور ڈاکٹر شاہد مسعود کو اپنے دعوے کو اپنے دستاویزات کے ساتھ ثابت کرنا ہو گا۔ “

اپنا تبصرہ بھیجیں