زینب قتل کیس کے ملزم عمران کا طاہرالقادری سے کیا تعلق ہے؟ مقامی اخبار کا تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

کراچی (ویب ڈیسک)روزنامہ امت نے دعویٰ کیا ہے کہ زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم عمران طاہرالقادری کی تحریک منہاج القرآن کا کارکن تھا، وہ نعت خوانی کے علاوہ مذہبی مجالس میں نقابت بھی کرتا تھا۔ اس کی نشاندہی پر ایک اور نعت خوان سہیل قادری کو بھی پولیس حراست میں لے چکی ہے، محلے داروں کی طرف سے ان کے بچوں کو چھیڑنے کی شکایت پر عمران کے گھر والے جھگڑے پر اتر آتے تھے۔

صوبائی وزرا کے بیانات اور سوشل میڈیا پر جاری بحث کی وجہ سے زینب کی فیملی شدید تحفظات کا شکار ہے ، انہیں خدشہ ہے کہ پولیس ملزم عمران کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کرکے اس ساری سیریل کلنگ کی فائل بند کرسکتی ہے، اسی لئے تمام وارداتوں کا ذمہ دار عمران کو ہی قرار دیا جارہا ہے۔ اخبار کے مطابق زینب کی فیملی اور مقامی انتظامیہ کے مابین تلخی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی تو پور اشہر باہر نکل آیا۔

مبینہ بینک اکاﺅنٹس کے معاملے پر ملزم عمران علی کا موقف بھی سامنے آ گیا ، بڑی خبر آ گئی
دوسری طرف ملزم عمران محافل میلاد میں نعت خوانی اور نقابت کرتا تھا، ملزم کی نشاندہی پر سہیل قادری جس مقامی نعت خواں کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ ملزم عمران کا استاد بتایا جاتاہے۔ ملزم نے اپنے ”پروفیشن“ کا وزٹنگ کارڈ بھی چھپوا رکھا تھا۔ مذکورہ کارڈ اور ملزم کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔ اخبار کے مطابق عمران تحریک منہاج القرآن کا کارکن تھا اور ان کے دھرنوں میں بھی شریک ہوتا تھا، لیکن یہ کنفرم نہیں ہوسکا کہ وہ تحریک منہاج القران کا عہدیدار ہے یا نہیں۔ اخبار کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری زینب کی نماز جنازہ پڑھانے کیلئے تو فوراً قصور پہنچ گئے، لیکن اس کے بعد انہوں نے ادھر کا رخ نہیں کیا، نہ ہی ملزم عمران کی گرفتار پر ان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آیا، جو حیران کن بات ہے۔ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ ملزم عمران کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں تحریک منہاج القرآن سے ملتے ہیں۔
ملزم کے ایک محلے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تین ماہ قبل ملزم عمران کے پڑوس میں رہنے والی ایک بیوہ خاتون نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اس کی آٹھ سالہ بیٹی کو گلی میں چھیڑا ہے۔ مذکورہ خاتون نے مقامی تھانے میں ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی بھی کوشش کی، لیکن پولیس نے اسے سیریس نہیں لیا۔بعدازاں جب یہ اطلاع ملزم عمران کے گھر پہنچی تو اس کی والدہ وغیرہ مذکورہ خاتون سے جھگڑے پر اتر آئے۔ قریباً ڈیڑھ ماہ پہلے ملزم اپنے پڑوسی ڈاکٹر معظم حسین کے گھر میں رات ڈیڑھ بجے چوری کی غرض سے داخل ہوا۔ آہٹ پر اہلخانہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس موقع پر بھی ملزم کے دفاع کیلئے اس کے گھر والے سامنے آئے۔

دوسری طرف زینب کے چچا امیر الحسن انصاری کا کہنا تھا ”ملزم عمران محض ایک چور او رنوسرباز ہے، اس کا نعت خوانی اور نقابت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ، وہ میلا دکی محفلوں میں نعت خوانوں پر پھینکی جانے والی”ویلیں“ چرانے جاتا تھا۔ سہیل قادری اسے اس حرکت سے منع کرتا تھا، اسی لئے ملزم نے اس کا نام لیا ۔ ملزم نے نوسربازی کیلئے ایک جعلی وزٹنگ کارڈ بنوارکھا تھا، اب وہ خود کو بچانے کیلئے مذہب کا سہارا ل ے رہا ہے۔“ واضح رہے کہ زینب کے والد امین انصاری خود بھی تحریک منہاج القرآن کے سرگرم کارکن بتائے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں