فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر389

سجاد گل اور ان کے بھائی شہزاد گل اس قسم کے تجربات کرنے کے عادی ہیں۔ کبھی وہ ’’لو سٹوری‘‘ بنانے کینیا چلے جاتے ہیں اور انگلستان کی ایک لڑکی کو ہیروئن منتخب کرتے ہیں۔ کبھی منیلا، کبھی کولمبو میں فلمیں بناتے ہیں۔
’’سونے کی تلاش‘‘ کے ہدایت کار حسن عسکری تھے۔ اس فلم میں اسماعیل شاہ کو ہیرو منتخب کیا گیا۔ ہیروئن ایک مصری دوشیزہ فائز کمال تھیں۔ یہ فلم بڑے سرمائے سے بنائی جانے والی تھی مگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس کی تکمیل میں التوا ہوگیا۔ یوں اسماعیل شاہ کی پہلی فلم کھٹائی میں پڑگئی تھی اور اس طرح ان کا فلمی مستقبل بھی خطرے میں تھا۔ مگر اسی دوران میں ہدایت کار ممتاز علی خان نے انہیں اپنی فلم ’’باغی قیدی‘‘ میں ہیرو کے طور پر چن لیا۔
ممتاز علی خاں بنیادی طور پر پشتو فلموں کے ہدایت کار تھے۔ انہوں نے پشتو میں بے حد معیاری اور کامیاب فلمیں بنائی ہیں مگر گاہے بگاہے وہ اردو فلمیں بھی بناتے رہے جن میں سے اکثر کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھیں۔
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر388 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
’’باغی قیدی‘‘ سجاد گل کی فلم ’’سونے کی تلاش‘‘ سے پہلے ریلیز ہوگئی۔ اس طرح فلمی صنعت میں اسماعیل شاہ کو متعارف کرانے کا سہر اممتاز علی خاں کے سرباندھا گیا۔
باغی قیدی میں اساعیل شاہ نے بہت اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا اور اپنے کردار کے ساتھ پورا پور انصاف کی تھا۔ پہلی فلم کی کامیابی نے انہیں راتوں رات سٹار بنادیا اور فلم سازوں نے حسب معمول ان کے دروازے کا رخ کرلیا۔ باغی قیدی 1986ء میں ریلیز ہوئی تھی اور اسماعیل شاہ 1993ء میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس طرح سات سال کے مختصر عرصے میں انہیں لگ بھگ 44 فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا جن میں سے بیشتر کامیاب فلمیں تھیں لیکن آخری موقع ملا جن میں سے بیشتر کامیاب فلمیں تھیں لیکن آخری زمانے میں قسمت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور کئی فلموں کی ناکامی سے بددل ہوکر وہ فلمیں صنعت سے بھی بد دل ہوگئے تھے۔
ان کی اس بد دلی اور مایوسی کا ایک سبب محبت میں ناکامی بھی تھا۔ اسماعیل شاہ نے یوں تو کئی ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا تھا مگر بابرہ شریف کے ساتھ کام کرنے کے بعد وہ ان میں دلچسپی لینے لگے۔ بابرہ نے بھی ایک خوبرو، خوش اطوار اور شائستہ نوجوان پاکر ان کی طرف توجہ دینی شروع کردی۔ یہ بھی سچ ہے کہ ایک موقع پر بابرہ شریف ان کے بارے میں سنجیدہ ہوگئی تھیں مگر ان کی شراب نوشی کی وجہ سے پریشان ہوگئیں۔ فلمی دنیا میں وہ شرابی شوہروں کا انجام دیکھ چکی تھیں۔ تھوڑی بہت مے نوشی تو شاید وہ برداشت کرلیتیں مگر اسماعیل شاہ اعتدال کی حد سے گزرچکے تھے۔ انہوں نے اس عادت پر قابو پانے کی بہت کوشش کی مگر وہ بے بس ہوچکے تھے۔ ان کی یہی عادت فلمی صنعت میں ان کی پسماندگی کا سبب بھی قرار دی جاسکتی ہے۔ اداکاری کی طرف وہ توجہ مرکز نہیں رکھ سکے لہٰذا ان کا پچھلی جانب سفر شروع ہوگیا۔ جب کامیابیوں اور مقبولیت میں کمی ہونے لگی تو اسماعیل شاہ بددل اور فلمی صنعت سے برگشتہ ہوگئے حالانکہ فلم والوں کا قصور نہ تھا۔ غلطی اور کوتاہی خود ان کی تھی۔ ہر ناکامی کے بعد ان کی اس عادت میں اضافہ ہوتا گیا۔ شاید یہی عادت بد بالآخر ان کے ہارٹ فیل کا سبب بن گئی۔ وہ شخص جو ٹیلی ویژن کے پہلے ڈرامے اور پہلی فلم ہی سے کامیابیوں کا خوگر ہوگیا تھا، وہ ناکامیوں کو کیسے برداشت کرلیتا؟ان کی موت پر کہا گیا کہ بابرہ شریف کے عشق میں دیوانہ ہوکر اس نے شراب نوشی بڑھا دی تھی،بابرہ وفا کرتی تو وہ بچ جاتا ،حالانکہ یہ حقیقت نہیں،اس میں بابرہ کا ذرا بھی دوش نہیں تھا ۔اسماعیل شاہ نے خود اپنے آپ کو تباہ کیا ،وہ شراب چھوڑ دیتا یا کم کردیتا تو ممکن ہے بابرہ شریف اس سے تعلق بڑھا لیتیں۔ہم جانتے ہیں کہ بابرہ حقیقت میں شریف بھی تھیں ۔وہ اعتدال سے بڑھنے والوں سے اجتناب کرتی تھیں۔
اسماعیل شاہ نے بہت سے ممتاز ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا جن میں حسن عسکری، حیدر چوہدری، سنگیتا، اقبال کاشمیری، جان محمد جمن، حسنین اور شمیم آرا کے ساتھ انہیں کام کرنے کا موقع ملا۔ اسی طرح اس زمانے کی مقبول ہیروئنوں کے بالمقابل بھی انہوں نے کام کیا۔ نادرہ، نیلی، اسماعیل شاہ اور اظہار قاضی ایک ہی سال میں فلموں میں جلوہ گر ہوئے تھے۔ عجیب اتفاق ہے کہ ان میں سے دو یعنی اسماعیل شاہ اور نادرہ عین شباب میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ نیلی اور اظہار قاضی خدا کے فضل سے بقید حیات ہیں مگر فلمی دنیا کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔
اسماعیل شاہ ایک حساس اور ذہین اداکار تھے۔ ہر کردار کو سوچ سمجھ کر ادا کرتے تھے اور اس کے ساتھ پورا انصاف کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ذاتی زندگی میں وہ ایک شائستہ، خوش اطوار، خوش لباس اور خوش مزاج انسان تھے۔ انتہائی مہذب اور خوش اخلاق بھی تھے۔ اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری سے نبھانے کی کوشش کرتے تھے۔ افسوس کہ جب وہ شراب خانہ خراب کے آگے بے بس ہوئے تو ان کی ساری خوبیاں تو ان کے ساتھ رہیں مگر ارتکاز نہ ہونے کی وجہ سے اداکاری بہت زیادہ متاثر ہوئی اور ظاہر ہے کہ یہی ایک فنکار کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔
اسماعیل شاہ کو رقص میں بھی مہارت حاصل تھی۔ بعض لوگوں کے خیال میں وہ پاکستانی اداکاروں میں وحید مراد کے بعد سب سے اچھے ڈانسر تھے۔ ان کی مشہور اور قابل ذکر فلموں میں ناچے ناگن، لیڈی اسمگلر، منیلا کے جانباز، مکھڑا، دوستی، تیزاب، ایک سے بڑھ کر ایک، حفاظت، برداشت ، ہوشیار، کالے چور، اللہ وارث، درندگی، باغی، قیدی، وطن کے رکھوالے اور چاہت شامل ہیں۔ وہ جس تیزی سے فلمی افق پر نمودار ہوئے تھے، اسی تیزی سے غائب بھی ہوگئے۔ ان کی اچانک موت کی خبر نے ساری فلمی صنعت کو چونکا کر رکھ دیا تھا۔ کئی دن تک ان کے تذکرے اور ان کی خوبیوں کا بیان ہوتا رہا مگر پھر فلمی دنیا کے دستور کے مطابق وہ ایک بھولی ہوئی داستان بن کر رہ گئے۔ غالباً آج کے فلم بینوں کی بہت بڑی تعداد ان کا نام تک نہیں جانتی۔ رہے فلم ساز اور ہدایت کار تو ان بے چاروں کو دوسرے ناموں سے اتنی فرصت کہاں کہ کسی بچھڑے ہوئے ساتھی کو یاد رکھیں۔
ا

اپنا تبصرہ بھیجیں