نمک پھڑی لے آؤ

میاں صاحب آپ میری بات مانیں، میں آپ کا اس وقت رینکنگ میں نمبر1 ہمدرد ہوں۔ ایویں ہلاشیری میں نہ آئیں۔ عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور آپ کو تو اتنے اشارے ہوگئے، جتنے ٹریفک وارڈن روڈ پر کھڑی گاڑیوں کو نہیں کرتا۔ اتنی مشکل سے مریم بی بی آپ کو بند گلی میں لائیں۔ اب یہ آپ کے داماد حضور یہاں سے آپ کو جیل کے پیچھے لے جانے کے چکروں میں ہیں۔ ذرا ملاحظہ کریں ان کا خطبہ! انہوں نے کہا نواز شریف اکیلے جیل نہیں جائیں گے، ان کے ساتھ بیس کروڑ عوام بھی جائیں گے، کسی میں ہمت ہے تو نواز شریف کو جیل میں بھیج کے دکھائے۔ اللہ بخشے کبھی ہم بھی خاصے چھوٹے ہوتے تھے، ہم نے کلاس میں جن کو پھینٹی پڑوانی ہوتی، ہم اپنے مانیٹر کو جو خاصے تگڑے تھے، چیلنج کرتے ’’جے پیو دا ایں، میرے دوست کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ۔ وہ ہمارے دوست کو ایک آدھ دھر دیتے، یوں ہمارے دوست کی آتما کو مفت میں شانتی مل جاتی، ہم کان لپیٹ کر نکرے لگ جاتے۔ اکثر ہمارا دوست پوچھتا تو ان کو روک نہیں سکتا تھا تو چیلنج کیوں کیا۔ ہم کہتے کیا ہوا، اس نے تمہیں دو کرا دیں، یہ دیکھو ہم نے چیلنج کیا کیا۔ بھیا میرے کیپٹن میاں صاحب کہہ رہے ہیں اداروں کو بیٹھ کر بات کرنا چاہئے۔ ان کے لہجے میں بات چیت کی خواہش ڈل ڈل پڑ رہی ہے اور آپ پھر وہیں ہیں، جاندے کی او تسی۔ آپ کا کچھ نہیں جانا، آپ کی بڑھکوں سے میاں صاحب کو جیل ہو جانی ہے۔ ان کی بیگم کو اللہ صحت دے، مشکل میں ہیں، خود میاں صاحب دل کے مریض ہیں۔ میری آپ سے اور مریم بی بی سے التجا ہے خدارا ہتھ ہولا کر دیں۔ آپ کے بیانات کی چاند ماری سے آپ کا کچھ جائے نہ جائے، تانگہ کچہریوں خالی آسکتا ہے اور سجنا کو قید بول سکتی ہے۔
بابا رحمتے چاہے مجھ جیسے ٹٹ پونجیے کالم نگاروں کو گھاس نہ ڈالیں، چاہے وہ اپنے انٹرویو کسی ایک منظور نظر کو ملاقات کی صورت میں عطا کر دیں، ہم ان سے محبت کے گیت گاتے رہیں گے، کہتے رہیں گے، گنگا میا میں جب تک کہ پانی رہے میرے بابے تیری زندگانی رہے۔ نجانے کیسے انہیں میرے دل کی بات پتہ چل جاتی ہے۔ میں ہسپتالوں کی صورتحال پڑھتا ہوں، بابا رحمتے وہاں پہنچ جاتے ہیں، میں اچھے نمبروں کے باوجود میڈیکل کالجز میں داخلہ نہ ملنے پر پرائیویٹ کالجز میں بھاری فیسیں دینے والے بچوں کو دیکھتا ہوں تو دل دکھتا ہے۔ بابا اس پر بھی اپنا ایکشن لیتا ہے، دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ جہاں حکمرانوں کو جانا چاہئے، میرا بابا جاتا ہے۔ بس بابا کسی دن آپ کے اپنے زیر انتظام چلنے والی کچہریوں کا بھی ایک وزٹ ہو جائے، آپ دیکھیں گے چھوٹی عدالتوں میں بھی انصاف کیسے بکتا ہے، کیسے جعلی ضمانتیں ہوتی ہیں، کیسے ٹاؤٹ جعلی مچلکے لئے پھرتے ہیں، کیسے تاریخیں پڑتی ہیں، کیسے فیصلے بکتے ہیں، کیسے یہ زخم لئے مخلوق کئی کئی دہائیوں کے مقدمے اپنے تھکے کاندھوں پر لئے ذلیل و خوار ہو رہے ہوتی ہے۔
کہتے ہیں اگر انصاف زندہ ہو تو معاشرہ زندہ رہتا ہے، لیکن کورٹ کچہریوں میں جا کر لگتا ہے یہ معاشرہ رشوت کا زہر کھا کر اپنی موت آپ مرچکا ہے۔ سدا نہ باغ بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں جو آیا ہے، اس نے جانا ہے، آپ نے بھی جانا ہے۔ قوم آپ کے تاریخی فیصلوں سے آپ کو یاد رکھے نہ رکھے اگر آپ نے نچلی سطح پر انصاف قانون کا نظام بحال کر دیا تو یقین کریں آپ محسن ہونگے۔ آپ کی بگل میں بیٹھے گھس بیٹھوں کو آپ نے ہی پکڑنا ہے، کیونکہ یہ صریحاً آپ کی فیلڈ ہے۔
جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو سب سے پہلے چوہے چھلانگیں مارتے ہیں، ماروی میمن آج نہیں تو کل مسلم لیگ چھوڑ دے گی، ان کا ٹاسک مکمل ہوچکا ہے۔ تاریخ میاں صاحب کے نغموں پر پراڈو کی چھت پر کھڑے ہوکر کلاسیکل انداز میں تھرکتے نعروں کا جواب دینے والی ماروی میمن کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ بنتا سنگھ بازار میں اپنی بیگم کو پھینٹی لگا رہا تھا، کسی نے کہا یار گھر لے جا کے کٹ لے۔ بنتا سنگھ بولا گھر ایہہ ملدی نئیں۔ سیاسی چوہوں کی یہی خوبی ہے یہ کسی گھر میں مستقل نہیں ملتے۔
جہاں ملاح جاتے ہیں، بیڑیاں بھی چلی جاتی ہیں۔ یہی بے شرمی کا کلچر ہے ہمارا۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔ آپ دیکھئے گا اب انہیں مسلم لیگ کی قیادت میں بے شمار کیڑے نظر آئیں گے۔ اقتدار کے وقت ان کی آنکھوں میں مفادات کا موتیا اتر آیا تھا۔ ایک خاتون ایک قبر پر پنکھا جھل رہی تھی، کسی نے کہا یہ کیا کر رہی ہیں، بولیں مرنے والے نے کہا تھا میری قبر کی مٹی سوکھ جائے تو شادی کرلینا، میں قبر سکھا رہی ہوں۔ ہمارے یہ سیاسی چوہے تو قبر سوکھنے کا تکلف بھی نہیں کرتے۔ مردوں کی بات تو چھوڑیں گلالئی سے لے کر ماروی میمن تک سیاسی چوہیوں کی کہانیاں بھی بہت دلچسپ ہیں۔
پچھلے کالم میں ایک درفنطنی چھوڑی تھی کہ ہمارے میاں مشرف کی قبولیت کی شرط میں میاں صاحب کو این آر او آفر کرنے کی خبریں گردش میں ہیں۔ میرا وہی سوال ہے اس نظام کے کرتا دھرتا جو مرضی کریں اتنا تکلف تو برتیں کہ ان سب ڈراموں کا تھوڑا سا اولا رکھ لیں۔ یہ پیغام تو نہ دیں کہ عوام نما مخلوق کی اتنی اوقات ہے کہ مہربان جب چاہیں جو چاہیں کرلیں اور قوم کو الیکشن الیکشن کھیلنے پر رکھ دیں۔ آج اس نباہ کے ذمہ دار سیاستدانوں کے ساتھ وہ تمام مہربان ہیں، جنہوں نے کبھی ایک کو کن تھلے کرا دی اور دوسرے کو چمکار کر گود میں بٹھا لیا۔ جب ہم حج کرنے جاتے ہیں تو کنکریاں تینوں شیطانوں کو مارتے ہیں، تب حج ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں اور دونوں چھوٹوں کو معاف کریں۔ خدارا قوم کے حال پر رحم کریں۔ بجلی چپ کرکے ڈیڑھ دو روپے فی یونٹ مہنگی ہوگئی، ڈالر جس تیزی سے اوپر جا رہا ہے، لگتا ہے کسی خلائی مشن سے پہلے مریخ پہنچ جائے گا اور اگلے ہفتے پٹرول بھی تین روپے مہنگا ہو رہا ہے۔
چوہدری نثار کو ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے کے دعوے کے بعد ایک اور بڑی خبرآگئی ، مریم نواز نے کس سیاستدان کو چوہدری نثار کے مقابلے میں الیکشن لڑانے کی پیشکش کردی؟ سیاسی میدان میں ہلچل مچ گئی
دوسری طرف ایئرکنڈیشنڈ۔ آخر میں بیٹھے بیرون ملک موج میلا کرنے والوں کے والدین پاکستان میں غریب عوام کیلئے مزید انقلاب لانے کی جنگ میں مصروف ہیں۔ معاف کردیو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ بنتا سنگھ ٹی وی دیکھ رہا تھا، بیگم کینو کھا رہی تھیں اور گا رہی تھیں ’’میں کینو کینو دساں اے راز دیاں گلاںِِ‘‘ اچانک کچن میں چارجنگ پر لگے بنتا جی کے موبائل پر میسج کی بیل بولی، وہ بھاگ کر کچن میں گئے، میسج پڑھا بنتا جی آتے ہوئے کچن سے نمک پھڑی لانا میں نے کینو کے ساتھ کھانے ہیں۔ آپ کی بیگم۔ ہم ایویں ہر بار میسج ٹون پر سمجھتے ہیں کوئی ہمارے دکھوں کا مداوا کرنے آیا ہے، بعد میں پتہ چلتا ہے سب رج کھان دیا مستیاں نئیں۔ ہم صرف دوڑ کر نمک پھڑنے کے لئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں