جے آئی ٹی بننے سے اب تک قوم کو 14 ارب روپے نقصان اٹھانا پڑا

اسلام آباد(سٹی نیوز )وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی بننے سے اب تک قوم کو 14 ارب روپے نقصان اٹھانا پڑا جب کہ ہنستے بستے اور تیزی سے ترقی کرتے پاکستان کو کس طرح لڑھکنے کے راستے پر ڈال دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس کے معاملے میں فوجی اور سیاسی قیادت نے مل کر تحقیقات کیں اور دونوں اداروں کے اتفاق رائے سے وہ معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکا ہے.
گزشتہ دنوں آگ سے متاثر ہونے والے اسلام آباد کے سستا بازار کے دورے کے دوران میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا ڈان لیکس کا معاملہ انجام تک پہنچ چکا اس لیے یہ اب ماضی کا حصہ ہے ہمیں اس سے بڑی چیزوں پر سوچنا چاہیے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں ٹرمپ کی تقریر پر بات کرنی چاہیے، کئی بار کہا ہے کہ ملک کے ارد گرد بہت سازشیں ہورہی ہیں، ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام پھیلانا ملکی مفاد سے کھیلنا ہے،ہمیں گڑھے مردے کھود کر ملک کو کسی تنازعے میں نہیں الجھانا چاہتے، اس وقت ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔پاناما کیس سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ہنستا بستا پاکستان جو تیزی سے ترقی کررہا تھا اسے کیسے لڑھکنے کے راستے پر ڈال دیا گیا، جے آئی ٹی بننے سے لے کر آج تک ملک کو 14 ارب روپے کا نقصان ہوا اس کا بھی سوال پوچھے جانا چاہیے کہ یہ کس کا نقصان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں کئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہونے والی تھیں اور کئی معاہدے ہونے والے تھے لیکن سیاسی بے یقینی کی وجہ سے یہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلاشبہ سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہیں اسی لیے فیصلے پر عملدرآمد کیا لیکن عدالت کا وہ فیصلہ جس میں دس ہزار درہم کی ممکنہ تنخواہ جو لی بھی نہیں گئی اس میں وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، اس فیصلے کی پاکستانی قوم کو 14 ارب روپے قیمت ادا کرنا پڑی۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو ملک اپنے سیاسی استحکام سے کھیلتا ہے اسے اقتصادی ترقی کو بھولنا پڑتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمیں ترقی بھی کرنا ہے اور سیاسی استحکام سے بھی کھیلنا ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک میں استحکام اور امن قائم رکھیں کیونکہ اسی سے ہمارا مستقبل اور معیشت جڑی ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں