امریکی صدر کی جانب سے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیے جانے کے بعد افغانستان میں موجود امریکی جنگی جہازوں کے پائلٹوں نے تیاریاں تیز کردی

کابل (ویب ڈیسک) امریکی صدر کی جانب سے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیے جانے کے بعد افغانستان میں موجود امریکی جنگی جہازوں کے پائلٹوں نے تیاریاں تیز کردی ہیں جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری میں تیزی پیدا ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے افغانستان میں امریکی فضا?ں حملوں میں تیزی آئی ہے۔ 2016 کے دوران پورے سال میں امریکہ نے افغانستان میں 2 ہزار 244 فضائی حملے کیے تھے، تاہم ٹرمپ کی رواں سال جنوری میں ہونے والی حلف برداری کے بعد ان حملوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ 20 اگست تک کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ رواں سال افغانستا میں 1 ہزار 74 فضائی حملے کرچکا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کا اعلان ہونے کے بعد سے اب تک اس کے صرف چند حصے ہی منظر عام پر آئے ہیں لیکن امریکہ کے افغانستان میں سب سے بڑے فوجی اڈے ’ بگرام ایئر بیس‘ پر پائلٹس نے مشقوں میں تیزی کردی ہے۔ کیونکہ امریکہ نے 2014 میں افغانستان میں بڑے آپریشنز بند کردیے تھے لیکن اب پائلٹس کو لگتا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت افغان طالبان کے خلاف حملوں میں تیزی آ سکتی ہے اس لیے انہوں نے وقت سے پہلے ہی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
امریکی پائلٹ میجرڈینئل لنڈسے نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں داعش اور طالبان بہت زیادہ متحرک ہیں، لیکن طالبان جنگجو بہت زیادہ سمارٹ ہیں اور انہیں قتل کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ افغان طالبان عام لوگوں میں کافی مقبول ہیں جبکہ داعش کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود داعش اور افغان طالبان جنگجو?ں کی شناخت اتنا مشکل کام نہیں ہے کیونکہ جب آپ سمارٹ ہو کر سوچتے ہیں تو برے لوگوں کو ڈھونڈنا اتنا بھی مشکل کام نہیں ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان پالیسی پر دیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جو امریکی فوج میدان جنگ میں موجود ہے اسے فری ہینڈ دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی فری ہینڈ سے کیا مراد ہے اور وہ فوج کو کس قسم کا حکم دینے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں