مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان کے خلاف انہوں نے خوب زہر اگلا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان کے خلاف انہوں نے خوب زہر اگلا تھا، لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ کی نئی پالیسی کا اصل ہدف پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر شدید تحفظات ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ خطے میں جو معاملہ بار بار سر اٹھاتا ہے وہ ایٹمی پروگرام ہے، یہ جنوبی ایشیا کی حکمت عملی کا بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔ امریکہ کو خطرہ ہے کہ پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار دہشتگردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاک بھارت تنازعہ بھی اہم مقام رکھتا ہے، دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور دونوں میں جاری تنازعات ختم کرانے ہوں گے تاکہ کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی سے بچا جا سکے۔ ’ہمیں ان ایٹمی ہتھیاروں پر شدید تحفظات ہیں جو میدان جنگ میں استعمال کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں، اس قسم کے ہتھیار دہشتگردوں کے ہاتھوں میں جا سکتے ہیں جس سے خطے میں ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے‘۔
امریکی عہدیدار نے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کے بارے میں مزید بتایا کہ امریکہ کی نئی پالیسی میں پاک بھارت تعلقات میں اعتماد کا اضافہ کرنا بھی شامل ہے تاکہ انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں