آئی بی کاسربراہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر کو تعینات کرنیکا فیصلہ

لاہور(ویب ڈیسک)روزنامہ دنیا کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کاسربراہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر کو تعینات کرنیکا فیصلہ کر لیا گیا جبکہ آئی بی کے موجودہ افسر وں کو تبدیل کیا جائیگا، جبکہ کئی کئی سالوں سے ایک ہی جگہ پر تعینات افسر وں اور اہلکاروں کے بھی تبادلے کئے جائیں گےجبکہ دوسری جانب ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان کی اپنی ٹیم ممبران سے پنجاب بیوروکریسی میں تبدیلی سے متعلق اہم معاملات پر مشاورت ہوئی ۔ چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کے ناموں پر غور کیا گیا۔ عبدالعلیم خان اور دیگر ٹیم ممبران سے عمران خان نے اہم افسر وں کی تعیناتی سے متعلق مشاورت کی اور ان کی تجاویز لیں،جبکہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پنجاب پولیس میں تعیناتیوں سے متعلق ناصر خان درانی کو ہی ٹاسک سونپ دیا ہے ، اور وہ اپنی فہرستیں مرتب کر کے ان سے مشاورت بھی کر چکے ہیں،یہ وجہ ہے کہ اب پنجاب پولیس کے سربراہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کیساتھ ساتھ 4کمشنرز،18 ڈپٹی کمشنرز،7 سیکرٹریز،3 آر پی اوزاور 12ڈی پی اوز ، سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشن کو تبدیل کرنے سے متعلق بھی فیصلہ کیا گیا ہے ، کابینہ کا حلف لینے کے بعد فوری طورپر تبادلوں کے احکامات جاری کر دئیے جائیں گے ۔تاکہ سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات شروع کر دئیے جائیں، جبکہ یہ بھی معاملات زیر غور ہیں کہ کچھ آفیسرز کو کام کرنے دیا جائیگا اور ان کی کارکردگی کو دیکھ کر ایک ماہ بعض تبادلے کئے جائیں گے۔

اخبار کے مطابق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ موجودہ آئی جی پنجاب کلیم امام کئی روز سے لاہور آنے کی بجائے اسلام آباد میں مختلف اداروں کے افراد اور قریبی دوستوں سے یہ سفارش کروارہے ہیں کہ انہیں پنجاب میں آئی جی پنجاب تعینات رہنے دیا جائے اور اسی طرح ان کی ٹیم کے کچھ افراد جو کہ لاہور میں تعینات ہیں جن میں سی سی پی او لاہور ، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ سمیت کئی افسر بھی اہم عہدے لینے کے لئے مختلف سفارشیں استعمال کر رہے ہیں، لیکن ابھی یہ تاثر بھی سامنے آرہا ہے کہ ناصر درانی کا مشیر بننے کے بعد میرٹ اور کام پر فوکس کیا جائیگا، جس کی وجہ سے کوئی بھی ایسا افسر پنجاب میں تعینات نہیں ہو نے دیا جائیگا جس سے پنجاب پولیس بہتر نہ ہو سکے اور کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھے ۔ جبکہ ناصر خان درانی نے ابھی سے کام شروع کردیا ہے ۔
جبکہ وزیراعظم عمران خان اس وقت پنجاب میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی تعیناتی سے متعلق کئی اہم ناموں سے متعلق اپنی ٹیم ممبران میں سے کئی افراد سے مشاورت کر چکے ہیں، جبکہ اس وقت میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان پہلے نمبر پر ہیں، اور دوسرے نمبر پر اس وقت وفاقی سیکرٹری انفارمیشن احمد نواز سکھیرا ہیں، آئی جی پنجاب کی تعیناتی سے متعلق کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز، امجد جاوید سلیمی، ڈاکٹر سلیمان خان کے نام زیر غور ہیں، ان اہم تبادلوں سے متعلق آئندہ چند روز میں فیصلہ کر لیا جائیگا۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ وزیراعلی ٰپنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ اس وقت تعینات کچھ افسران وہی ہیں جو کہ سابق دور میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور ان کے بہت ہی قریبی افسر سمجھے جاتے تھے ، اب بھی وہ افسر ان یہاں پر تعینات ہیں اور انہی کے طرز عمل پر کام کرنے سے متعلق اور اسی پلان پر موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان کو چلنے سے متعلق مختلف سفارشات بھی پیش کر رہے ہیں، جبکہ کچھ افسران ان کے ذہن میں وہی معلومات لارہے ہیں جس پلان پر سابق وزیراعلیٰ شہباشریف کام کرتے رہے ہیں، اس طرح سے وہی بیوروکریسی پھر اہم معاملات کو دیکھ سکتی ہے ، جس پر بعض افسر وں کی جانب سے شدید اعتراضات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ بھی امید کی جارہی ہے کہ شاید انہیں بھی تبدیل کر دیا جائیگا ، تاکہ معاملات کو بہتر انداز میں لیکر چلا جاسکے ۔

ایک اہم ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی بی کے سربراہ کو تبدیل کرنے سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی کئی اہم افسر وں سے مشاورت بھی ہوئی ہے ، اور اب آئی بی کے سربراہ پولیس افسر کی بجائے ریٹائرڈ یا حاضرسروس فوجی افسر تعینات کرنے کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے ، اور کئی اہم ناموں پر غور بھی کیا جارہا ہے ۔ جبکہ انٹیلی جنس بیوروکو مزید بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں