گلالئی فیصلے کے اثرات

مجھے یقین ہے کہ آپ رکن قومی اسمبلی محترمہ عائشہ گلالئی کوپاکستان تحریک انصاف کے سیاسی فیصلوں کی پابند اور کسی بھی د وسرے رکن اسمبلی کی طرح ان مفادات کو بڑھاوا دینے والی رہنما نہیں سمجھتے ہوں گے، یہ واضح کر دوں کہ میں خاص طور پر عائشہ گلالئی کیس میں جناب عمران خان کی بطور شخص ہی نہیں بلکہ پارٹی سربراہ کے طور پر بھی بات نہیں کر رہا، میں ایک سیاسی جماعت کی بات کر رہا ہوں جس کی ٹکٹ پر عائشہ گلالئی پاکستان کے سب سے معزز ، محترم اور بااختیار ادارے کی رکن کہلاتی ہیں۔ میں یہ بھی واضح کردوں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے آئینی اور قانونی اختیارات کے تحت عائشہ گلالئی کو بطور رکن قومی اسمبلی برقرار رکھنے کا جو فیصلہ دیا ہے اس پر بھی صرف اس وجہ سے بات نہیں کر رہا کہ فیصلہ دینا ان کا اختیار تھا مگر سیاست کے ایک طالب علم کے طور پر یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اس کے سیاسی اثرات کا جائزہ لوں اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ یہ فیصلہ پہلے سے کمزور سیاسی جماعتوں کو مزید کمزور کر سکتاہے۔ ہم سیاسی جماعتوں میں توڑپھوڑ کے حوالے سے اپنی شرمناک تاریخ کو ایک مرتبہ پھر ایسے دہرا سکتے ہیں کہ اپنی پارٹی اور قیادت کی ایسی تیسی کرنے والے اسی پارٹی اور قیاد ت کے نام اور ووٹ بنک پراسمبلی میں موجود رہ کر ان کے سینے پر مونگ دلتے رہیں۔

ہر رکن اسمبلی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قیادت سے اختلاف کرے اور جب معاملہ ایک خاتون کی آبرو اور وقار کا ہو تو اسے کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر ہراساں کئے جانے والے شخص کی اطاعت کرے مگر مان لیجئے کہ وجوہات کچھ بھی ہوں عائشہ گلالئی نے اپنی پارٹی سے کھلم کھلا بغاوت کی ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن میں یہ معاملہ پیش ہوتا ہے اور محترم چیف الیکشن کمشنر سمیت تین ارکان عائشہ گلالئی کو پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی کے طور پربحال رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی خاتون رکن، وزیراعظم کے الیکشن میں پارٹی فیصلے کے مطابق ووٹ کاسٹ نہیں کرتیں اور یہاں مذکورہ خاتون رکن کی بجائے تحریک انصاف سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا انہیں پارٹی کے امیدوار شیخ رشید کوووٹ ڈالنے کی کوئی ہدایت کی گئی تھی ، اگر کوئی ایسی ہدایت موجود تھی تو اس کا دستاویزی ثبوت پیش کیا جائے۔ میں نہ تحریک انصاف کا رکن ہوں اور نہ ہی پارلیمنٹ کا، میرا الیکشن کمیشن میں بھی کوئی کردار نہیں ہے مگر میں جانتا ہوں کہ تحریک انصاف نے وزیراعظم محمد نواز شریف کی نااہلی کے سیاسی طور پر متنازعہ فیصلے کے بعد شیخ رشید احمد کو پارٹی کا امیدوار نامزد کیا تھا اور پارٹی پالیسی یہی تھی کہ شیخ صاحب کے حق میں پی ٹی آئی کے ارکان ووٹ کاسٹ کریں۔ تحریک انصاف کا یہ فیصلہ کسی طور پر بھی خفیہ نہیں تھا کہ اسے ثابت کرنے کے لئے کوئی دستاویزی ثبوت دیا جاتا۔ محترمہ عائشہ گلالئی کے الزامات کوعمران خان صاحب کی مخالفت میں سچ مانا جا سکتا ہے مگر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اب ان کا تحریک انصاف سے محض دشمنی کاتعلق ہے۔

میں نے سیاست، صحافت اور معاشرت کے طالب علم کے طور پر ارکان کو اپنے وقتی مفادات کے تحت پارٹیاں تبدیل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک وقت تھا جب ارکان کے جمعہ بازار لگا کرتے تھے اور پھر یہ کون سی بہت پرانی بات ہے کہ مسلم لیگ نون کے اندر سے مسلم لیگ قاف اور پیپلزپارٹی کے اندر سے پیٹریاٹس نکالے گئے۔ پنجاب میں جب مسلم لیگ نون کی حکومت بنی تو ان ارکان کی رال بھی ٹپک پڑی جو مسلم لیگ قاف کی ٹکٹ پر منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے تھے۔ اس وقت فلور کراسنگ کا قانون یہ کہتا تھا کہ کسی بھی رکن کے لوٹا ہونے کی صورت میں اس کا پارلیمانی لیڈراس کے خلاف ریفرنس ارسال کرسکتا ہے اگرچہ ، اللہ مغفرت کرے، حاجی فضل کریم کے خلاف مولانا عبدالستار نیازی کا ریفرنس بھی اس وقت کے سپیکر پنجاب اسمبلی اور الیکشن کمیشن کے درمیان جس طرح وقت حاصل کرنے کے لئے استعمال ہوا تھا وہ بھی لوٹوں کی تاریخ میں ایک اہم باب کی حیثیت رکھتا ہے مگرجب قاف لیگ کے ان ارکان نے جنہیں ا چانک مسلم لیگ نون سے پیار ہو گیا تھا جناب عطا مانیکا کی قیادت میں اپنی پارٹی سے بغاوت کی تھی تو اکثریت میں ہونے کی وجہ سے پارلیمانی لیڈر ہی تبدیل کر لیا تھا لہذا نااہلی کا معاملہ ہی گول ہو گیا تھا۔ عطا مانیکا کی بھی کیا قسمت ہے، ایک ٹی وی پروگرام کے اینکر ’ گرائیں‘ ہونے کی بنا پر بار بار بڑا دانشور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور میں سوچتا ہوں کہ یہ کیادانشور ی ہوئی کہ جب بھی لوٹا ہونے کا موقع آئے تو سب سے پہلے آپ کا نام سامنے آ جائے بہرحال قانون کی اس کمی اور کوتاہی کو بعد میں اس طرح دور کیا گیا کہ کسی بھی منحرف رکن اسمبلی کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا اختیار پارلیمانی لیڈر کی بجائے سیاسی جماعت کے سربراہ کے حوالے کر دیا گیا مگر یہاں عمران خان بطور پارٹی لیڈر بھی اپنی منحرف رکن قومی اسمبلی کو ڈی سیٹ نہیں کروا سکے اور میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تاریخ میں یہ فیصلہ کن دوسرے فیصلوں کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔

اب تھوڑا آگے بڑھتے ہیں، مسلم لیگ نون کے بہت سارے ہمدرد اس فیصلے پر تحریک انصاف کا بالعموم اور عمران خان کا بالخصوص بینڈ بجا رہے ہیں۔ مجھے یہ بھی حوالہ دینا ہے کہ اس وقت مسلم لیگ نون ہی وہ جماعت ہے جو میاں نواز شریف کی قیادت میں اپنے آپ کو جمہوریت کی اچھی، سچی اور کھری علم بردار سمجھ رہی ہے کہ پیپلزپارٹی بھی خود کو متبادل کنگز پارٹی کے طور پر رجسٹر کروانے کی کوششوں میں ہلکان ہوئے جا رہی ہے۔اگر محترمہ عائشہ گلالئی کی سیاسی سرگرمیوں اور اس کے بعد الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کو رول ماڈل بنا لیا جائے تو یقینی طور پر پارٹیوں کے اندر وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوگا کہ اس کادرست اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔میں سیاسی جماعتوں کے اندر قیادت کی آمریت کے حق میں نہیں مگر دوسری طرف کمزور ترین سیاسی جماعتو ں میں اگر قیادت بھی ایک بائینڈنگ فورس نہیں رہے گی تو پھر آپ کس بنیاد پر سیاسی جماعت جیسے اہم ادارے کو قائم رکھ سکیں گے۔ ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ یہ وقت مسلم لیگ نون میں سے ایک او رمسلم لیگ نکالنے کا ہے اور یوں وہ تمام ارکان اسمبلی جو میاں نواز شریف کے وزارت عظمیٰ سے محروم ہونے کے بعد ان کی قیادت اور فراست کو ٹھکرا رہے ہوں گے وہ بھی اس فیصلے کی روشنی میں نون لیگ کے ہی ارکان سمجھے جائیں گے۔ مسلم لیگ نون کی صدارت دوبارہ سنبھالنے کے بعد میاں نواز شریف کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوئی ہے اور اس مضبوطی میں ان کے اس اختیار کا بھی ہاتھ ہے کہ وہ کسی بھی منحرف اور لوٹے رکن کو ڈی سیٹ کروا سکتے ہیں جس کا مخصوص مدت میں فیصلہ ہونا بھی ضروری ہے تو یہاں خیال آتا ہے کہ عمران خان بھی تو ایک پارٹی کے سربراہ ہیں اور انہوں نے بھی ایک منحرف ہوجانے والی رکن قومی اسمبلی کے خلاف ریفرنس بھیجا تھا۔

ہم قیام پاکستان سے اب تک اپنی سیاسی جماعتوں کی تباہ کاری کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ۔عائشہ گلالئی کیس میں پی ٹی آئی کی سمجھ میں آنے والی جائز اور منطقی درخواست کو مسترد ہونے کے بعد اسی فسانے کا ایک اور باب تحریر کردیاگیا ہے یا کم از کم اس کا ابتدائیہ لکھ دیا گیا ہے ۔ میں پھر کہوں گا کہ میں فیصلے تکنیکی پہلووں سے آگاہ ہونے کے باوجو د اس کے بارے میں مسترد کرنے جیسے الفاظ نہیں لکھ رہا مگر یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ ہمارے فیصلوں میں انصاف نہ صرف ہونا چاہئے بلکہ میرے جیسے کم علموں کو ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے۔ میں عمران خان صاحب کے ذاتی اور سیاسی دونوں کرداروں کا ہی مداح نہیں ہوں مگر اس کے باوجود یہ امر ایک حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف کے بعد ووٹروں کی سب سے بڑی تعدادا نہیں ہی اپنارہنما اور مسیحا مانتی ہے۔ عائشہ گلالئی کے الزامات ایک دوسری حقیقت ہیں اور ان الزامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی شعبے میں خواتین کا جنسی استحصال نہ ہو سکے مگر یہ الزامات ( چاہے سچے ہی کیوں نہ ہوں) محترمہ عائشہ گلالئی کے تحریک انصاف کی نمائندہ رکن قومی اسمبلی ہونے کا جواز نہیں بنتے۔ اس فیصلے کا ایک اہم اثر یہ بھی ہے کہ عائشہ گلالئی کے رکن قومی اسمبلی برقرار رہنے سے عمران خان صاحب پر دباو بھی برقرار رہے گا ، یہ دباو اس سیاست دان کو کٹ ٹو سائز رکھنے کے لئے اہم ہے جس نے اپنے ( اخلاقی یا غیر اخلاقی) ہتھکنڈوں کے ذریعے وقت کے وزیراعظم کو اس کے عہدے سے الگ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، یہ پہلو خان صاحب کی آنکھیں کھول سکتا ہے اگر وہ اسے سمجھ پائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں