ہاتھ پاؤں مارتی سیاست

یار لوگ کھلے بندوں مارشل لاء لگنے کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ سیاسی داناؤں کے نزدیک یہ باتیں صرف باتیں ہیں ،مارشل لاء کا امکان نہیں ۔یوں بھی مارشل لاء پوچھ کر نہیں آتا ، چھپ کر آتا ہے ، کوئی حالات بناتا ہے کوئی آلہ کار بن جاتا ہے!

پیپلز پارٹی اگلے انتخابات جیتے نہ جیتے اگلی حکومت ضرور بنانا چاہتی ہے ، پی ٹی آئی اگلی حکومت بنائے نہ بنائے اگلے انتخابات ضرور جیتنا چاہتی ہے، جبکہ نون لیگ انتخابات بھی جیتنا چاہتی ہے اور حکومت بھی بنانا چاہتی ہے اور یہی اس کا چیلنج ہے کہ وہ بیک وقت پی ٹی آئی کو انتخاب جیتنے اور پی پی پی کو حکومت بنانے سے کیسے روک سکتی ہے ؟

دوسری جانب ’کچھ لوگ ‘کسی سیاسی جماعت کو کچھ نہیں کرنے دینا چاہتے اور ان کی ساری توانائی اس کام پر صرف ہو رہی ہے کہ کنفیوژن، بے یقینی ، افراتفری اور بے قراری کا دور دورہ رہے ، کسی کو کچھ سمجھ نہ آئے ، کسی کے کچھ ہاتھ نہ آئے اور سارا کچھ سمٹ کر ان کی جھولی میں جا گرے ۔ اگر پیپلز پارٹی جو چاہتی ہے وہ ’کچھ لوگ ‘نہیں چاہتے ، پی ٹی آئی جو چاہتی ہے وہ ’کچھ لوگ ‘نہیں چاہتے اور نون لیگ جو چاہتی ہے ’کچھ لوگ ‘وہ نہیں چاہتے تو آخر ’کچھ لوگ ‘چاہتے کیا ہیں ؟
میڈیا پر کچھ لوگ نادیدہ قوتوں کے منتظر ہیں تو کچھ ندیدوں کی طرح حالات دیکھ رہے ہیں، کچھ صفائی کر رہے ہیں اور کچھ صفائی کے بعد چارپائیاں بچھانے کے لئے بے تاب کھڑے ہیں، سیاستدانوں کی بدقسمتی ہے کہ ادھر ان پر خورد بردکا الزام لگتا ہے ، ادھر ان کا میڈیا ٹرائل شروع ہوجاتا ہے، میڈیا سیاسی ہی نہیں غیر سیاسی قوتیں بھی کنٹرول کرتی ہیں ، میڈیا اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ اپنے کام کے اعتبار سے یہ غیر جانبدار ہے مگر اس پر بیٹھے ہوئے لوگ پوری طرح جانبدار ہیں۔
عمران خان نے میڈیا پر �آآ کر اپنے آپ کو منوالیا ہے ، آصف زرداری میڈیا پر نہ آکر اپنے آپ کو منوانا چاہتے ہیں۔ عمران نے تصور کرلیا کہ میڈیا پر آنے سے لوگ آپ کو جاننے لگتے ہیں لیکن جاننے اور ماننے میں فرق ہوتا ہے اور عمران خان کا یہی المیہ ہے کہ لوگ انہیں جانتے تو ہیں، مانتے نہیں !….لیکن انتخابات میں ابھی سات آٹھ ماہ پڑے ہوئے ہیں ، جاننے والے انہیں مان بھی سکتے ہیں!

اب آصف زرداری نے میڈیا پر سیاست شروع کی ہے کیونکہ ان کی جانب سے سڑکوں پر سیاست کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے، یہی فرق ہے پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں ،تبھی تو کیپٹن صفدر کی ضمانت منظورہو تی ہے اور شرجیل میمن کی مسترد ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کل نون لیگ میں بھی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے ، ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا ہے۔
ان دنوں شرجیل میمن اور شریف فیملی سے نیب میں سلوک کا موازنہ کیا جا رہا ہے ۔ اس موازنے کا مقصد جہاں نیب کو دباؤ میں لانا ہے وہیں پر شریف فیملی کے خلاف بغض کا مظاہرہ بھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ نیب کو شریف فیملی سے سختی کرنی پڑے لیکن شرجیل میمن نہ پیپلز پارٹی کے صدر ہیں اور نہ ہی آصف زرداری کے صاحبزادے ہیں ، اس لئے انکے ساتھ ہونے والے سلوک کو نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے ساتھ ہونے والے سلوک سے موازنہ نہیں کرنا چاہئے۔

شرجیل میمن کے خلاف سیاسی انتقام ہے تو کون انتقام لے رہا ہے ، نون لیگ تو خود زیر عتاب ہے ،و ہ کیسے انتقام لے سکتی ہے ، ممکن ہے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات ہو رہی ہو لیکن ان باتوں سے کیا حاصل کیونکہ ان باتوں کی اب کسی کو پرواہ نہیں ہے ، باتوں کا اثر لینے والے لد گئے ۔ حیرت یہ ہے کہ کہیں بھی یہ بات زیر بحث نہیں ہے کہ کیپٹن صفدرکی گرفتاری بھی ہوئی تھی۔ اگر کیپٹن صفدر بھی چھے گھنٹے تک اسلام آباد ایئرپورٹ سے باہر نہ آتے تو یقیناًانہیں بھی ایسے ہی پھٹے گریبان کے ساتھ نیب والے لے کر جاتے جیسے شرجیل میمن کو لے جایا گیا،یوں بھی پیپلز پارٹی والوں کا وطیرہ ہے کہ اول تو بھاگتے ہیں ،پکڑے جائیں تو بگڑنے اور جھگڑنے لگتے ہیں ….ہاتھا پائی شروع کر دیتے ہیں، الزام تراشی شروع کردیتے ہیں ، بھٹو کے قتل سے بات شروع کردیتے ہیں۔ شرجیل میمن گرفتار ہوئے تو بلاول بھٹو کو شریف فیملی یاد آگئی، کاش انہیں ایان علی ، آصف زرداری اور راجہ اشرف وغیرہ کی بریت پر بھی نوا ز شریف یاد آتے ۔

یہ روش یونہی چلتی رہی تو ممکن ہے کل کو عمران خان اور جہانگیر ترین کو بھی ایسے ہی گرفتار کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا گرفتاریاں صرف سیاستدانوں کی قسمت ہے ، ان کے راستے میں کوئی اسپتال کیوں نہیں پڑتا!

اپنا تبصرہ بھیجیں