کراچی:مبینہ طورپر ڈاکٹرعامر لیاقت حسین نے پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے مہلت مانگ لی

کراچی (ویب ڈیسک) معروف اینکر پرسن ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبریں سرگرم تھیں لیکن عین موقع پر مبینہ طورپر ڈاکٹرعامر لیاقت حسین نے پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے مہلت مانگ لی، عامر لیاقت کی پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ تحریک انصاف کے مشاورتی اجلاس میں بھی زیرغور آیا جس دوران کچھ رہنماؤں نے ان کی پارٹی میں شمولیت کی مخالفت تو کچھ نے حمایت بھی کی ، لیکن عمران خان چاہتے ہیں کہ اب معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے کیونکہ بات چیت شروع رہی اور معاملہ میڈیا کی زینت بھی بن چکا ہے اور اب اگر مزید تاخیر ہوئی تو خدشہ ہے کہ نفرت انگیز مہم شروع ہوجائے ۔
جیونیوز کے پروگرا م میں گفتگو کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ کاکہناتھاکہ ’’یہ بات طے تھی کہ آج عامر لیاقت تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں گے ، مگر پھر کیا ہوا، رات گئے تک جاری رہنے والے تحریک انصاف کے مشاورتی اجلاس میں کچھ پارٹی رہنماؤں نے دلائل دے کر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو قائل کرلیا کہ عامر لیاقت کو فی الحال پارٹی میں شامل نہ کیاجائے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق خود عمران خان، اسد عمر، عمران اسماعیل اور نعیم الحق نے عامر لیاقت کی شمولیت کی حمایت کی جبکہ تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، شیریں مزاری، علی زیدی، فیصل واڈااور عندلیب عباس نے شمولیت کی مخالفت کی‘‘۔
ان کاکہناتھاکہ ’’ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کی آخر تک یہ خواہش رہی کہ عامر لیاقت کو پارٹی میں شامل کرلیں کیونکہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ اگر عامر لیاقت کو پارٹی میں شامل نہ کیا گیا تو ان کے خلاف بھی نفرت انگیز مہم شروع کردی جائے گی اور اس خدشے کا اظہار انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے مشاورتی اجلاس میں بھی کیا اور عامر لیاقت کی پارٹی میں شمولیت کے مخالف رہنماؤں نے عامر لیاقت کے وہ کلپ دکھائے جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ یہ سارا دن ہوتا رہا، جب کچھ صحافی گئے توان کے سامنے بھی تحریک انصاف کے کچھ رہنما عمران خان کو وہ کلپ دکھارہے تھے۔ عامر لیاقت کی شمولیت کی خبریں سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تحریک انصاف تنقید کی زد میں آگئی اور کڑی تنقید کی گئی۔ اس کا سخت ردعمل سامنے آیا اور پی ٹی آئی کی اپنی سوشل میڈیا ٹیم جو کہ فرنٹ فٹ پر رہ کر تحریک انصاف کا دفاع کرتی ہے مگر اس سوشل میڈیا ٹیم نے بھی پارٹی کے دفاع سے انکار کردیا اور صاف کہہ دیا کہ اگر یہ صاحب پارٹی میں آئیں گے تو ان کے حوالے سے نہ کوئی ٹویٹ کریں گے اور اگر پارٹی پر ان کی شمولیت کے حوالے سے تنقید ہوگی ہم اس کا دفاع نہیں کریں گے‘‘۔
شاہزیب نے کہاکہ ’’ایک ایسا شخص جو مذہبی منافرت پھیلا کر کئی انسانوں کی جان خطرے میں ڈال چکا ہے، جو ٹی وی پر ناظرین کے سامنے غلیظ زبان استعمال کرتا ہے اور وہ خود جو تحریک انصاف کے بارے میں باتیں کہہ چکا ہے تو صاف صاف انہوں نے عمران خان صاحب کو بتادیا کہ ہم ان کا نہ دفاع کریں گے اور پی ٹی آئی پر ہی تنقید کریں گے، یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنی زبان کے شر سے خواتین اور علمائے کرام کو بھی نہیں بخشا۔ ایک ایسا شخص جو شرانگیزی اورلوگوں پر جھوٹے الزامات لگا کر عوام کو تشدد پر اکسارہا ہے، تحریک انصاف اسے پارٹی میں شامل کرے گی تو ہم سوشل میڈیا پر دفاع نہیں کریں گے،جب یہ ردعمل سامنے آیا تو تحریک انصاف میں عامر لیاقت کی شمولیت فی الوقت روک دی گئی‘‘ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں