ڈبل گیم

اندرونی اور بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ پیچیدہ سیاسی صورت حال نے بھی عوام کو چکرا رکھا ہے۔ جدھر جائیں لوگ یہی پوچھتے ہیں کہ ہوکیا رہا ہے؟منظر نامہ واضح ہونے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ دھند میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ ہر کوئی دوسرے کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔

ایک طرف تو یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ اگر نواز شریف اپنے بچوں سمیت ملکی سیاست سے ازخود خارج ہو کر باقی زندگی ملک سے باہر گزارنے پر تیار ہو جائیں تو اقتدار شہباز شریف کو سونپا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایک ہی سانس میں فارورڈ بلاک یا پھر کسی راست کارروائی کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

ریاض پیرزادہ ٹائپ لوٹے (بلکہ وفاداریاں بدلنے کیلئے موصوف کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے انہیں پورا ’’حمام‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہو گا) متحرک کیے جارہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی‘ صحافتی ترجمان دن رات ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ ن لیگ کے 60 سے 70 تک ارکان لوٹا بننے کیلئے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں مگر انہیں گرین سگنل نہیں مل رہا۔ ان ترجمانوں کا واضح اشارہ ہے کہ ن لیگ میں جو بھی گڑ بڑ ہو گی وہ اسٹیبلشمنٹ ہی کرائے گی۔

ویسے تو ایک طرح سے یہ اعتراف شکست بھی ہے کہ نواز شریف کی نااہلی اور تقریباً تمام ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کے باوجود ان کے ارکان اسمبلی رضا کارانہ طور پر کسی دوسری جماعت میں جانے کیلئے تیار نہیں۔

اس تمام صورت حال کو پیش نظر رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو بظاہر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سول ڈھانچہ بھی ن لیگ کے ارکان کے ساتھ ہی قائم کرنا چاہتی ہے۔ ڈبل گیم مگر یہ ہور ہی ہے کہ ایک طرف تو شہباز شریف کو قابل قبول قرار دیا جارہا ہے اور دوسری جانب ماڈل ٹاؤن واقعہ اور حدیبیہ پیپر ملز کیس کے ذریعے دھمکایا بھی جارہا ہے۔

بعض حلقوں کو یقین ہے کہ اگر شہباز شریف خود کو بڑے بھائی سے الگ کر کے اسٹیبلشمنٹ کی لائن پر لگ جائیں تو سب اچھا ہو جائے گا۔ مان لیجئے شہباز شریف اگلے وزیراعظم بن بھی جاتے ہیں تو ان کی اوقات کیا ہو گی؟ جس عہدے سے بڑے بڑے ذہین و فطین اور مقبول سیاستدان رسوا کر کے نکالے گئے ان کی جستجو شہباز شریف کیلئے بھی ایک گناہ بے لذت ثابت ہو گا۔

انہیں اپنے بڑے بھائی کے تجربات سے کچھ سیکھنا چاہیے۔ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد خصوصاً 2014 ء کے بعد نواز شریف کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہر ایک کے علم میں ہے کہ ایسا کر کون رہا ہے۔

نواز شریف نے اپنی وزارت عظمیٰ کے مختلف ادوار میں وزیر خارجہ، وزیر دفاع لگا کر بھی دیکھ لیے اور عہدے خالی چھوڑ کر بھی ،مگر اقتدار نہ بچا پائے۔ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد اختیارات کا یہ عالم رہا کہ کیبل آپریٹر تک حکومتی رٹ سے مکمل طور پر باہر رہے۔

ایسے میں اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش ان کی اپنی ہو یا ان کی جماعت کی ،ایک بے کار مشق ہو گی۔ اب تو حکومت کی رخصتی کے لیے کسی بڑی مشق کی بھی ضرورت نہیں۔ ایک آدھ سکینڈل لائیں معاملہ عدالت میں لے جائیں اور جھٹکا ہو گیا۔ سول حکومت کی یہی اوقات رہ گئی ہے۔

دوسرا راستہ یقینی طور پر خطرات سے پر ہے مگر جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کسی نہ کسی کو تو اس کی جانب بھی قدم بڑھانا ہوں گے۔ فیصلہ (ن) لیگ اور اس کی چند ایک ہم خیال سیاسی جماعتوں نے خود کرنا ہے ورنہ دائرے کا یہ منحوس سفر اسی طرح سے جاری رہے گا۔

(ن) لیگ کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی ممکنہ ڈیل کے حوالے سے سب سے زیادہ پریشانی تحریک انصاف کو ہے۔ عمران خان بار بار کہہ رہے ہیں کہ کوئی این آر او قبول نہیں کریں گے۔ ایسا ہوا تو عوام کو سڑکوں پر لائیں گے۔ کپتان صاحب کو نجانے کس بات کا زعم ہے۔

این آر او اگر ’’صدق دل‘‘ سے ہوا ( جس کے امکانات کم ہیں) تو پی ٹی آئی کی کال پر کوئی کان بھی نہیں دھرے گا۔ احتجاج تو دور کی بات پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کپتان خود کہاں کھڑا ہے۔

یہ رائے بالکل درست ہے کہ جب تک ان کا اور جہانگیر ترین جیسے پی ٹی آئی رہنماؤں کا استعمال باقی ہے ان کے خلاف کسی فورم سے کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔ مگر دیکھنا تو یہ ہے کہ ان کے استعمال کیلئے حد کیا طے کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ا نہیں وزیراعظم بنانا مقصود ہو۔

حکمران اشرافیہ (غیر سیاسی) کے اہل خانہ کی بھاری تعداد تو تحریک انصاف کی حامی ہے۔ جلسے ،جلوسوں اور دھرنوں میں جاتی ہے مگر ملک میں اقتدار پر حقیقی طور پر قابض گنتی کی چند شخصیات کی محکمانہ رائے کچھ اور ہے ۔

نجی محافل تو کجا بسا اوقات کھلے بندوں بھی عمران خان کے بارے میں ان کی رائے قریب قریب وہی ہوتی ہے جو رانا ثناء اللہ مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عمران خان کو فوری طور پر آؤٹ ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ورنہ فارغ کرنا آخر کتنا مشکل کام ہے۔ ذمہ داری سے عرض ہے کہ سول ایجنسیوں کے پاس بھی ایسا مواد موجود ہے جو عمران خان کے 62اور 63 پر پورا ترنے کی وکالت کرنے والوں کو الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو بھی سارے معاملے کا بخوبی علم ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ گلا لئی کا معاملہ کسی سیاسی جماعت نے نہیں اچھالا۔

یہ ایک وارننگ ہے مگر ان مبینہ میسجز کا ڈیٹا الزامات کی بارش کرنے سے پہلے ہی حاصل کر کے محفوظ کیا جا چکا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو ابھی استعمال کیا جاتا رہے گا کیونکہ آئندہ انتخابات میں منقسم مینڈیٹ لانے کا منصوبہ بروئے کارلانے کے لیے انہیں قائم رکھنا ضروری ہے۔

ہاں مگر اقتدار کے حوالے سے کوئی گارنٹی نہیں ۔ پی ٹی آئی کے درجنوں اہم رہنما کئی بار یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ ہمیں سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اپنی ہی صفوں میں موجود شاہ محمود قریشی سے ہے۔ یہ قریشی کس کا بندہ ہے؟ جس کا بھی ہو ڈبل گیم کا تاثر کئی بار پیدا کر چکا ہے۔

تحریک انصاف آخر ان کا کیا کر سکتی ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ پی ٹی آئی کے اصل مالکان مختلف پارٹی عہدوں پر تقرریاں تک خود کر کے ’’اعلان‘‘ کا اختیار کپتان کو دے دیتے ہیں۔ اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان کر کے اگلے ہی روز ملک سے طویل عرصے کیلئے فرار ہونے والے آصف زرداری کے بارے میں اب کسی ڈیل کا تاثر ابھر رہا ہے۔

اس حوالے سے ان کے بیانات پر مریم نواز شریف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ آصف زرداری کے اپنے الفاظ نہیں‘‘ ظاہر ہے کہ مریم نواز کا اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب ہی ہے۔

سندھ میں پیش آنے والے کئی واقعات سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے محبت کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں۔ شرجیل میمن کی تازہ گرفتاری پر جو لائن لی گئی اس کا ایک ہی ہدف ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو بھی گرفتار کیا جائے۔

اس سے قبل آصف زرداری کے ساتھ اس وقت ہاتھ ہو چلا تھا جب ایم کیو ایم کو حکم ملا کہ تحریک انصاف سے مل کر اپوزیشن لیڈر کا دھڑن تختہ کر دے۔ حیرانی اور پریشانی کا شکار آصف زرداری کو بھاگم بھاگ دبئی سے اسلام آباد آنا پڑا اور معاملات ’’مینج‘‘ کیے۔

اب پھر سے اچھی امیدیں باندھی جارہی ہیں۔ پتہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے کون سی گیدڑ سنگھی استعمال کی جائے گی یا پھر ایک بار پھر حیرانی، پریشانی میں مبتلا کر کے بیچ راستے میں چھوڑ دیا جائے گا۔ ان دنوں بیک وقت کئی تجربات جاری ہیں۔

تیزی سے سیاسی و عوامی قوت کھوتی ہوئی جماعت اسلامی اور سیاسی یتیم کی ڈیفینیشن پر سو فیصد پورا اترنے والے پیر پگارا کے ذریعے اگلے عام انتخابات کے التواء کے مطالبات پیش کیے جارہے ہیں۔

مسلکی گروہوں اور جہادی تنظیموں پر مبنی سیاسی گروپوں کو انتخابی سیاست میں دھکیل کر مخصوص مقاصد حاصل کرنے کا منصوبہ بروئے کار لایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی اور خونریزی کے خدشات ظاہر کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مخصوص میڈیا کے محاذ سے جو گند اچھالا جارہا ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ کبھی کبھار تو لگتا ہے کہ سارے حالات اس رخ پر جارہے ہیں جہاں کسی کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ اس ہنگامہ خیز صورت حال میں ایک چیز تو طے ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی بھی فریق اپنی پرانی پوزیشن برقرار نہیں رکھ پائے گا۔

سنا تو یہی ہے کہ حکمت عملی ترتیب دیتے وقت اے سے ای تک پلان بنائے جاتے ہیں امید ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی کیا گیا ہو گا۔ اگر پلان ای بھی نہ چلا تو ایف فار فیل کسی کے حق میں نہ ہو گا۔ طوفان سے پہلے خاموشی ہو یا پھر دھما چوکڑی مچے ہر دو صورتوں میں سب سے کم خسارے میں وہی رہے گا جو اپنی آنکھیں اور دماغ کھلا رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں