خیا ل کا سفر

کتب و رسائل و جرائد و اخبارات پڑھتے ہوئے کوئی شعر ایسا سامنے آ جاتا ہے جو پڑھتے ہی تلازمہ ء خیال پیچھے کی طرف لوٹ جاتا ہے، یعنی:
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو

نئے شاعروں یا قریب قریب کے عہد موجود کے شعراء کے مجموعے پڑھتے ہوئے کوئی ایسا شعر ذہن میں کلبلاتا ہے اور بے ساختہ کہتا ہے، میں تو پہلے سے موجود ہوں ایسے بہت سے ملتے جلتے اشعار کو پڑھ کر ہماری احتیاط کا تقاضا ہوتا ہے کہ انہیں ’’خیال کا سفر‘‘ سمجھ لیا جائے یا یہ کہ دو بڑے ذہن یکساں بھی سوچ سکتے ہیں، بہرحال، سرقہ یا چوری کا الزام لگائے بغیر اس دلچسپ مطالعے کو جو ہمارے ہزاروں صفحات کی ورق گردانی پر مشتمل ہوتا ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لئے نچوڑ پیش کئے دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
اے ہم نشیں نہ پوچھ جوانی کدھر گئی
مثلِ بہار بس ادھر آئی اُدھر گئی
شامی جالندھری
پیری سے خم کمر میں نہیں ہے یہ اے قمر!
مَیں جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی
قمر جلالوی
ہمارا نام بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
ظہیر کاشمیری
قفس کے ہو لئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
قمر جلالوی
یونہی ذرا خموش جو رہنے لگے ہیں ہم
لوگوں نے کیسے کیسے فسانے بنا لئے
رضیہ بیگم خواجہ
لوگ گھڑ لیتے ہیں افسانے انہی باتوں سے
بند کمرے میں سر شام نہ تنہا بیٹھو!
مراتب اختر
پلک پلک پہ ستارے سجے ہیں جس کے لئے
وہ اس طرح سے مِلا جیسے جانتا ہی نہیں
سرور انبالوی
وہ یوں ملا ہے کہ جیسے کبھی ملا ہی نہ تھا
ہماری ذات پہ جس کی عنایتیں تھیں بہت
ناصرزیدی
کتنی بے کیف زندگی ہے ابھی
ایسے لگتا ہے کچھ کمی ہے ابھی
خورشید بیگ میلسوی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
ناصرکاظمی
مجھے تسکین کیوں نہیں ملتی
دل میں کیسی یہ بے کلی ہے ابھی
خورشید بیگ میلسوی
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
جون ایلیا
گھر میں رہتا ہوں اجنبی کی طرح
میں اکیلا ہوں خاندان کے ساتھ
ناطق جعفری
اب کوئی مجھ کو ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا؟
جون ایلیا
صبح ہوتی ہے رات ہوتی ہے
وہی دنیا کی بات ہوتی ہے
ناطق جعفری
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
(منشی امیر اللہ) تسلیم لکھنوی
دیکھ لو ایک نظر تم بھی وہ کافر صورت
ناصحو! شوق سے ناطق کو منع کر لینا
ناطق جعفری
دکھاؤں گا تجھے زاہد اس آفتِ جاں کو
خلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کا
نواب مرزا داغ دہلوی
مانا کہ جیتے جی مری توقیر کچھ نہ کی
مرنے کے بعد تو مری برسی منائی ہے
شفقت اللہ مشتاق
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
احمد ندیم قاسمی
کبھی اکیلے میں دل کی کتاب کھولو اگر
کسی وَرق پہ میرا نام بھی لکھا ہوگا
فوزیہ اعوان
گئے دنوں کی پُرانی سی ڈائری دیکھو
کسی وَرق پہ میرا نام بھی لکھا ہوگا
منور سلطانہ بٹ
کہی بات مَیں نے بڑی مختصر سی
مگر ایک محشر بپا ہو گیا ہے
شفقت اللہ مشتاق
کتنے افسانے اس کے بنے کاظمی
بات کہنے کو تھی مختصر آپ کی
شفقت کاظمی
سُرخ رُو ایسا ہُوا ہوں عشق میں
ایک دھڑکن بھی نہ پس انداز کی
ارشد محمود ارشد
عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم جس کے لئے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
رئیس فروغ
پیار پر ہے آج کل ہر سُو ہَوس چھائی ہوئی
کام اچھا تھا کبھی یہ اب مگر اچھا نہیں
ڈاکٹر سعید اقبال سعدی
ہر بوالہوس نے حُسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوۂ اہلِ نظر گئی!
مرزا غالب
در پہ اُن کے پاسباں ہوں مالی و زر ہے جن کے پاس
میرے گھر میں زر نہیں تو کیا رہے دھڑکا مجھے
امتیاز کاظمی
نہ لُٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
میرزا غالب
واہ اے داد گستری فاتح
چور کا چور احتساب کرے
فاتح واسطی
خبرِ گرم لایا ہوں رُوحی
چور چوروں کا ہاتھ کاٹیں گے
روحی کنجاہی

اپنا تبصرہ بھیجیں