ستائیس اکتوبر، بھارت کے خلاف یوم سیاہ

جن لوگوں نے تقسیم ہند کے وقت کشمیریوں کو گاجر مولی کی طر ح کٹتے دیکھا ان میں سے کچھ لوگ زندہ ہیں جو اس قتل وغارت اور لوٹ مار کے عینی شاہد ہیں ۔مہا راجہ کے ڈوگرہ سپاہی ، بھارتی فوجی اور انتہا پسند ہندو اس قتل عام میں شامل تھے ۔

قتل ہونے والوں میں وہ لوگ شامل نہیں جو راستے میں جاتے ہوئے دھوکے سے مارے گئے۔ یورپی میڈیا نے جموں و کشمیر میں قتل کیے گئے مسلمانوں کی تعداد2لاکھ پچاس ہزار بتائی۔27اکتوبر 1947ء کو نصف کروڑ مسلمانوں کو ڈوگرہ غلامی سے برہمنوں کی غلامی میں دیدیا گیا ۔

اس دن بھارت نے اس چانکیہ تعلیم پر عملدرآمد کیا جو انہیں اپنے مفاد کے لیے نچلی ترین سطح پر گر جانے کی اجازت دیتی ہے ۔جھوٹ، فریب ، منافقت اور وعدہ خلافی نیزایسی کوئی اخلاقی اور انسانی بُرائی دنیا میں ابھی تک متعارف نہیں ہوئی جس کا مظاہرہ ہندو اپنا” دھرم” سمجھ کر نہ کرتے ہوں ۔

کشمیر پر بھارتی قبضہ کروانے میں سب سے گھناوٗنا کردار وی پی مینن اور لارڈماوٗنٹ میٹن کا ہے جنہوں نے الحاق کی در پردہ سازش تیار کی جبکہ گاندھی ،نہرو اور پٹیل سازش کی بنیادیں گہری کرنے والوں میں سے تھے ۔کشمیر پر بھارتی قبضہ کروانے میں مذکورہ بالا افراد نے ظالمانہ اور منافقت پر مبنی کردار ادا کیا جو دغا ، بے اصولی ، نا انصافی ، حق تلفی ، مسلمانوں سے عناد ، مسلم کشی کی ایسی شرمناک داستان ہے جو ظلم و استبداداور جارحیت کی تاریخ میں نمایاں ہے۔

یہ دن در اصل انڈیا کی درندگی،طاقت کے گھمنڈ کے خلاف بطور یوم سیاہ کے منایا جاتا ہے ۔تقسیم ہندوستان کے طے شدہ اصول کے مطابق ریاستوں کو اپنی مذہبی،جغرافیائی اور آبادیاتی حقائق کی بنیادکے پیش نظر دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرنے کا انتخاب کرناتھا ۔

اور دونوں ممالک کے درمیان یہ بھی طے پا چکا تھا کہ الحاق کے لیے کوئی دباؤ یا در پردہ کوشش بروئے کار نہیں لائی جائے گی۔

انڈیا نے اس تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حیدرآباد، جونا گڑھ اور جموں کشمیر کی ریاستوں پر قبضہ کر لیا ۔انڈیا نے کشمیریوں کی خواہشات کا ،اس مذموم ارادے کے ساتھ قتل کیا کہ مستقبل میں آبادی میں تبدیلی کر کے استصواب رائے سے اس الحاق کو مستقل کر لیا جائے گا ۔ کشمیریوں کو آزادی کی خواہش کے اظہار کی سزا دی گئی وہ19جولائی1947میں مسلم کانفرنس کی ایک قرار داد کے ذریعے سامنے لا چکے تھے ۔

پہلے سے تیار کردہ سازش کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے بھارتی وردی پوش درندوں ،ڈوگرہ سپاہیوں اور انتہا پسند ہندووں نے جموں کے علاقے میں بڑی تعداد مسلمانوں کوقتل کیا۔یہاں ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اگر تقسیم کا منصوبہ انصاف کے اصولوں پر طے کیاگیا تھا تو بھارت کے پاس کشمیر کے لیے کوئی زمینی راستہ نہ تھا مگر نام نہاد اور بد دیانت ریڈ کلف باؤنڈری کمیشن کے چیئرمین نے انصاف کا قتل کرتے ہوئے خفیہ طریقے سے گورداسپور کا مسلم اکثریتی علاقہ بھارت کے حوالے کر دیا ۔

کشمیر کا تنازع پیدا کرنے کا یہ عملی اقدام تھا۔ اس راستے کو استعمال کرتے ہوئے بھارت نے بہیمانہ اور وحشیانہ انداز میں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جنوبی ایشیا کے امن کو تباہ کرنے کے بیج بو دیے۔کشمیری عوام گذشتہ 70 برسوں سے احتجاج کر رہے ہیں اور اس دوران اُن کو بھاری اور ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

نوجوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے،ہزاروں پھول جیسے بچوں کو سنگینوں پر چڑھایا گیا، خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں اور بیوہ ہوئیں، بڑی تعداد میں لوگ معذور ہوئے،ہزاروں، بوڑھی مائیں اپنے جگر گوشوں کی گھر واپسی کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے چلی گئیں۔اربوں روپے کی جائیدادیں، مکانات ، دکانیں اوردیگر اثاثے نذر آتش ہوئے۔

مسئلہ کشمیر کے حل میں کسی بڑی طاقت کے مداخلت نہ کرنے اور اقوام متحدہ کی نا انصافی نے کشمیریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جنگ ان کی اپنی ہے اور اُنہوں نے ہی لڑنا ہے۔بین الاقوامی برادری کے اس رویہ سے کشمیری نالاں ہیں یہ ناراضی اور نا امیدی کسی بڑے ناخوشگوار واقعہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔مسئلہ کشمیر نے ایک لاوا اور اُگلتے آتش فشاں کا روپ دھار لیا ہے۔

کشمیریوں پر بھارت کی جانب سے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور درندگی،سفاکیت اور حیوانیت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ کشمیریوں نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ ہر قیمت پر حق خودارادیت حاصل کر کے رہیں گے۔ 27 اکتوبر کو دنیا بھرمیں بسنے والے کشمیری ” یوم سیاہ ” منا کر عہد کرتے ہیں کہ وہ بھارت کا مکروہ ، سیاہ اور بھیانک چہرہ اقوام عالم کے سامنے بے نقاب کرینگے مظلوم نہتے کشمیری اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و استبداد ، جبروتشدد اور دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار داد کے مطابق ” استصواب رائے” کا انتظام کرے۔27 اکتوبر کو پاکستان میں مختلف سیاسی ، سماجی ، دینی ، تاجر ، وکلاء ، نوجوان ، طلباء کی تنظمیں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یوم سیاہ منا کر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں