دبئی میں پودوں کو پانی دیتے پاکستانی کو اچانک ان کے درمیان ایک لڑکی کا جسم برہنہ حالت میں پڑا نظر آگیا، پولیس بلا لی، یہ دراصل کون تھی؟ ایسا انکشاف کہ ہنگامہ برپاہوگیا

دبئی سٹی(ویب ڈیسک) دبئی میں پودوں کی دیکھ بھال پر مامور ایک پاکستانی شہری کو اس وقت اپنی زندگی کے خوفناک ترین منظر کا سامنا کرنا پڑ گیا جب پودوں کو پانی دیتے ہوئے ایک برہنہ لاش اس کے سامنے آ گئی۔ جب اس معاملے کی تفتیش ہوئی تو لرزہ خیز انکشاف سامنے آیا کہ اس لڑکی کو قتل کر کے بنگلے کی دیوار کے اوپر سے باہر پھینک دیا گیا تھا۔
پاکستانی گارڈ ایک بنگلے کے باہر پودوں کی کانٹ چھانٹ کررہا تھا اور اسی دوران اسے لڑکی کی لاش ملی۔ پولیس کو اس معاملے کی اطلاع دی گئی اور پوچھ گچھ کے دوران سڑک کی دوسری جانب مقیم ایک فلپائنی کلرک نے بتایاکہ اس نے لڑکی کو سہ پہر ڈیڑھ بجے بنگلے میں جاتے دیکھا تھا۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ لاش ایک نیپالی لڑکی کی تھی جس کا تعلق بنگلے میں ملازمت کرنے والے ایک نیپالی ملازم کے ساتھ تھا۔ پولیس نے اس ملازم کو گرفتار کرلیا اور تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کرلیا کہ اس نے لڑکی کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا تھا۔
ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ ’’وہ لڑکی میری دوست تھی اور ہمارے درمیان تعلقات تھے۔ اس دن میں نے چوری چھپے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا۔ ہم نے کچھ وقت اکٹھے گزارا لیکن اس کے بعد وہ جانے پر تیار نہیں تھی اور مزید وقت میرے پاس رکنا چاہ رہی تھی۔ اس بات پر ہمارے درمیان لڑائی ہوگئی اور وہ چلانے لگی جس پر گھبرا کر میں نے اسے چپ کروانے کیلئے اس کا گلا دبادیا۔ جب میں نے اسے واش روم میں دھکیلا تو وہ فرش پر گری او راس کے سر پر چوٹ لگی اور وہ بے ہوش ہو گئی۔ میں اسے بیڈ پر لٹا کر اپنے کام پر چلا گیا۔ بعد میں جب آیا تو مجھے احساس ہوا کہ وہ مرچکی تھی۔ میں نے بنگلے کی دیوار سے اس کی لاش کو باہر پھینک دیا۔‘‘
اس مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر گزشتہ روز دبئی کی عدالت نے نیپالی باشندے کو لڑکی کے ساتھ زیادتی او را سکے قتل کا مجرم قرار دے دیا۔ قید کی سزا مکمل ہونے کے بعد اسے ملک بدر کر دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں