سعودی عرب کی تنظیم نے اسرائیل کی سب سے بڑی خواہش پوری کردی، وہ کام کردیا جو آج تک اسرائیل کے مسلسل اصرار کے باوجود مسلمان نہ مانتے تھے

ریاض(ویب ڈیسک) یہودیوں کا یہ مئوقف کہ جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر نے ان کی نسل ختم کرنے کے لئے انہیں لاکھوں کی تعداد میں قتل کیا، جسے وہ ہولوکاسٹ کہتے ہیں، یورپی تاریخ کا مسلمہ حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یورپ میں تو ہولوکاسٹ کا انکار کرنے پر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے، لیکن مشرقی ممالک، خصوصاً مسلم ممالک کے تاریخ دان ہولوکاسٹ کی صداقت پر ہمیشہ سے سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ ان ممالک میں اکثر اوقات تو حکومتی اور سرکاری طور پر بھی اس کا انکار کیا جاتا ہے، لیکن پہلی بار سعودی عرب کی ایک اہم تنظیم نے انتہائی غیر متوقع طور پر ہولوکاسٹ کے انکار کی کھل کر مذمت کردی ہے۔
’مسلم ورلڈ لیگ‘ نامی گروپ کے سیکرٹری جنرل محمد العیسیٰ کی جانب سے انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ری میمبرنس ڈے کے موقع پر امریکی ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کو ایک خط لکھ کر کہا گیا ہے کہ ”تاریخ دراصل غیر جانبدا رہوتی ہے چاہے اس کے ساتھ جتنی بھی چھیڑ چھاڑ اور تخریب کی جائے۔ اس لئے ہم ہولوکاسٹ کے انکار یا اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوششوں کو تاریخ کو مسخ کرنے کے جرم کے مترادف سمجھتے ہیں، او راسے ان لوگوں کی بھی توہین سمجھتے ہیں جو ہولوکاسٹ میں ظلم کا نشانہ بنے۔ بطور انسان ہم سب ایک روحانی تعلق میں بندھے ہوئے ہیں لہٰذا ہم ہولوکاسٹ کے انکار کی بھرپور انداز میں مذمت کرتے ہیں۔“
جمعرات کے روز واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں اس خط کو آویزاں بھی کیا گیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان خفیہ طور پر تعلقات استوار ہونے کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ محمد العیسیٰ، جو کہ سابق وزیر انصاف ہیں، کی جانب سے اس قسم کے بیان کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں