سعودی حکومت کی قید سے رہائی پاتے ہی شہزادہ ولید بن طلال کو ایک اور انتہائی شاندار خوشخبری مل گئی، صرف ایک ہی دن میں

ریاض(ویب ڈیسک)کرپشن کے الزام میں گرفتا رہونے والے ارب پتی سعودی شہزادے الولید بن طلال کو تقریباً تین ماہ کی قید کے بعد بالآخر ہفتے کے روز رہائی مل گئی۔ ان کے لئے صرف یہی کچھ کم خوشی کی بات نہیں تھی کہ اگلے ہی دن ان کی سرمایہ کاری کمپنی ’کنگڈم ہولڈنگ‘ کے حصص میں 10 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
اے بی سی نیوز کے مطابق 62 سالہ پرنس الولید کا شمار دنیا کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے، جن کی سرمایہ کاری دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ کنگڈم ہولڈم کمپنی کے چیئرمین ہیں، جس کی سٹاک مالیت سعودی تداول سٹاک ایکسچینج میں اتوار کے روز پہلے کی نسبت تقریباً 10 فیصد بلند سطح پر جا کر رکی۔
پرنس الولید کے قریبی رفقاءنے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ انہیں تقریباً 80 دن کی حراست کے بعد رہا کیا جاچکا ہے۔ سعودی دارالحکومت کے مشہور رٹز کارلٹن ہوٹل میں پرنس الولید کے ساتھ درجنوں دیگر شہزادوں اور وزراءکو بھی کرپشن کے الزامات کے تحت حراست میں رکھا گیا تھا۔ قید کئے گئے افراد میں سے ایک بڑی تعداد بھاری رقم کی ادائیگی کے عوض رہائی پاچکی ہے لیکن پرنس الولید کے بارے میں تاحال یہ واضح نہیں کہ وہ بھاری رقم کی ادائیگی پر تیار ہوئے یا نہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے بھی ان کی رہائی پر باقاعدہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں