آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی زیر صدارت سی پی او میں اعلی سطحی اجلاس

آئی جی پنجا ب نے شہریوں کے مسائل کے فوری حل اور محکمانہ امور کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کیں۔
لاہور29اپریل-انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ پولیس کے حوالے سے عوامی شکایات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور عوامی شکایات کے ازالے کیلئے بروقت اقدامات نہ کرنیوالے افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی میں تاخیر کا سبب بننے والے افسران بھی خود کو کسی رعائیت کا مستحق نہ سمجھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عملی اقدامات کی بجائے مقدمات درج نہ کرکے جرائم کا گراف کم دکھانے والے ایس ایچ او زکے خلاف سینئر افسران بلا تاخیر محکمانہ کاروائی عمل میں لائیں اور جس ضلع میں بروقت مقدمات کے اندراج میں تاخیر کے ذمہ دار ایس ایچ اوز اور سرکل افسروں کے خلاف کاروائی نہ کی گئی وہاں اسے ڈی پی او کی ملی بھگت تصور کیا جائے گا جنہیں اس بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد عملی اقدامات سے عوام میں احساس تحفظ کو فروغ دیتے ہوئے پر امن معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ طارق مسعود یٰسین، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز انعام غنی، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس راؤ سردار، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن ابوبکر خدا بخش،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر، ایڈیشنل آئی جی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ(IAB)، ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی کرائمز جواد ڈوگر، ڈی آئی جی ڈی اینڈ آئی احسن یونس، اے آئی جی کمپلینٹس زاہد نواز مروت موجود تھے۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ(IAB)نے آئی جی پنجاب کوعوامی شکایات اور انکے ازالے کیلئے ہونے والے اقدامات کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں تعینات کئے گئے ایس پیز کمپلینٹس شہریوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات میں مصروف ہیں جن کا روزانہ کی بنیاد پرریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے سنٹرل پولیس آفس سے کلوز مانیٹرنگ کا عمل بھی جاری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ایس پیز شکایات نے اندراج مقدمہ کی 7500شکایات سننے کے بعد 1317شکایات پر مختلف اضلاع میں مقدمات کے اندراج کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی بھی عمل میں لائی گئی۔ آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس حراست میں ہلاکت، تشدد اور پولیس حراست سے ملزموں کا فرار کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے واقعات کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف زیرو ٹالریننس کے تحت فوری کاروائی کی جائے جبکہ پولیس حراست سے ملزمان کے فرار کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی میں تاخیر کا سبب بننے والے افسران بھی محکمانہ کاروائی کیلئے خودکو تیار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس میں اب وہی رہے گا جو ذمہ داری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے لئے ریلیف کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی پولیس فورس کے طور پر خود کو منوانا ہے جس کی پہچان اس کی کارکردگی ہے اور عوامی تحفظ کے سوا ہمارا کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ تفتیش میں سستی، لاپرواہی یا حقائق کو غلط انداز میں رپورٹ کرنے والے افسران کسی رعائیت کے مستحق نہیں جبکہ جرائم اور عوامی شکایات کے متعلق آئی جی آفس کو غلط معلومات فراہم کرنے والے ڈی پی اوز کو ناپسندیدگی کے خطوط جاری کیے جائیں اور ان سے جواب طلبی بھی کی جائے۔
آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جرائم کی روک تھام کے لئے پولیس میں آپریشنز اور تفتیش دونوں شعبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لہذا دونوں شعبوں کے افسران ایک دوسرے سے کوآرڈی نیشن کو مزید بہتر بناتے ہوئے جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کاروائی کو یقینی بنائیں اور حقائق اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ایسے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ عوامی شکایات کا تعلق عموما انہی شعبوں سے ہوتا ہے اور اگر تھانوں کی سطح پر آپریشنز اور تفتیش کا عمل میرٹ پر بروقت مکمل ہو جائے تو بہت سی شکایات ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بہتر سے بہتر نتائج کے حصول کے لئے جہاں افسران کے لئے ریفریشر کورسز کا عمل جاری ہے وہیں شکایات موصول ہونے پر سخت قانونی و محکمانہ کاروائی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں