میچ فکسنگ: شعیب اختر کا قومی اسمبلی سے کریمنل ایکٹ پاس کرانے کا مطالبہ

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے میچ فکسنگ کیخلاف قومی اسمبلی سے کریمنل ایکٹ پاس کرانے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں میچ فکسنگ کے کیسز سامنے آنے کے بعد قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے فکسنگ کیخلاف قومی اسمبلی سے کریمنل ایکٹ پاس کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیل سے کھلواڑ کرنے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنا چاہئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تین سال کی پابندی کا شکار ہونے والے بیٹسمین عمر اکمل پر دباؤ ڈالا جائے گا معافی مانگ لے، سزا کم کردیں گے۔

دریں اثناء انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیگل ایڈوائزر تفضل رضوی کو نالائق قرار دیدیا۔

دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر اور قانون دان تفضل حیدر رضوی کا کہنا تھا کہ سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے میرے بارے میں مبینہ طور پر نامناسب الفاظ استعمال کیے اور اسی طرح کے ریمارکس سوشل میڈیا پر بھی دیے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کے ردعمل میں تفضل حیدر رضوی نے شعیب کو قانونی نوٹس بھیجا ہے اور ان کے خلاف سائبر کرائم قانون کے تحت درخواست بھی دائر کر دی ہے۔

تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شعیب اختر 15 روز میں اپنا بیان واپس لیں، ان سے غیر مشروط معافی مانگیں اور دس کروڑ روپے ہرجانہ ادا کریں۔ ان کے مطابق وہ یہ رقم لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے میڈیکل سینٹر کو عطیہ کر دیں گے۔

تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ شعیب اختر نے نہ صرف دو مختلف ٹی وی پروگراموں میں ان کے خلاف نامناسب گفتگو کی ہے بلکہ یہی بات اپنے یوٹیوب چینل پر بھی دوہرائی اور یہ تمام مواد فیس بک پراپنے صفحے پر بھی اپ لوڈ کیا۔

دریں اثناء تفضل رضوی نے شعیب اختر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کردی تفضل رضوی نے درخواست ایف آئی اے کے سائبرکرائم ونگ کو جمع کرواتے ہوئے کہا کہ شعیب اختر نے سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات لگائے۔ فوری مقدمہ درج کیاجائے ۔

اُدھر پاکستان بار کونسل نے بھی شعیب اختر کے بیان پر شدید ردعمل دیا ہے، وائس چیئر مین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے اعلامیہ جاری کرے ہوئے کہا کہ پی سی بی کے لیگل ایڈوائزر تفضل رضوی بار کے رکن ہیں، شعیب اختر کو ایسا بیان نہیں دیا چاہیے تھا، بار کونسل اپنے مضحکہ خیز بیانات کی اجازت نہیں دے گی، شعیب اختر محتاط رہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے کرپشن میں ملوث ہونے کے بعد سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر، سابق کپتان رمیض راجہ اور سابق وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف نے میچ فکسنگ کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بارے میں جلد از جلد قانون سازی کرے تاکہ کرپٹ کھلاڑیوں کو ملکی قوانین کے تحت سخت سزائیں دی جاسکیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق شعیب اختر اور رمیض راجہ کا ردعمل ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کرکٹ بورڈ نے عمراکمل پر مشکوک افراد کی جانب سے رابطے کی اطلاع کرکٹ بورڈ کو نہ دینے کی پاداش میں 3 سال کی پابندی عائد کی ہے جبکہ دوسری جانب میچ فکسنگ میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے سابق کپتان سلیم ملک کرکٹ میں واپسی کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔

سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کے خلاف سخت قدم اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔ وہ ان لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ میں رہے ہیں کہ انھوں نے اس اہم معاملے پر اب تک کیا کیا ہے؟

انہوں نے سوال کیا کہ آخر پاکستان میں میچ فکسنگ کو ایک جرم قرار دیتے ہوئے اس بارے میں کوئی قانون کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہاں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جس میں کرپٹ کرکٹر کو جیل بھیج دیا جائے اوراس کی جائیداد ضبط کر لی جائے۔ اس سے لوگوں میں خوف پیدا ہو گا اور وہ کوئی بھی غلط حرکت کرنے سے پہلے سوچیں گے۔

سابق فاسٹ باؤلر کا کہنا تھا کہ لوگ اب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کرکٹ میں کرپشن کے سدباب کے لیے قانون سازی کرے اس سلسلے میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں جتنا جلد ممکن ہو سکے کرکٹ میں کرپشن سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے۔

دوسری طرف سابق کرکٹر اور معروف کمنٹینٹر رمیض راجہ بھی میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کو مجرمانہ فعل قرار دے کر اس کے خلاف قانون بنانے کے حق میں ہیں۔

ان کا کہنا پے کہ اس قانون کے ذریعے ملک کا وقار داغدار کرنے والے کرپٹ کرکٹرز کو سخت سزائیں دی جانی چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکومت کے ساتھ مل کر قانون سازی کرے تا کہ اگر اب کوئی بھی کرکٹر فکسنگ میں ملوث پایا جائے تو اسے ملکی قوانین کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جا سکے۔

رمیض راجہ نے عمر اکمل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی نئے کرکٹر نہیں ہیں وہ ایک عرصے سے بین الاقوامی کرکٹ کھیل رہے ہیں اورانھیں تمام باتوں کا اچھی طرح علم ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ٹیلنٹ کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ عمر اکمل کو دی گئی 3 سالہ پابندی کو سخت سمجھتے ہیں جبکہ مشکوک افراد اور بکیز کی جانب سے کیے گئے رابطوں کی رپورٹ نہ کرنا اتنا ہی سنگین جرم ہے جتنا میچ فکسنگ کرنا ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران رمیض راجہ نے شائقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے کرپٹ کرکٹرز کی ہرگز حمایت نہ کریں کیونکہ جب بھی پاکستانی ٹیم اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوتی ہے تو یہ کرپٹ کھلاڑی اپنے شائقین کے ذریعے دباؤ ڈالنا شروع کردیتے ہیں اور ٹیم میں اپنی واپسی کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ شائقین کو اچھی طرح اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایسے کرکٹرز کی وجہ سے پاکستان کی کرکٹ بہت زیادہ نقصان اٹھا چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں