پاکستان اور چین نے افغانستان اور جنوبی ایشیاء سے متعلق طاقت کے استعمال کی امریکی پالیسی کی مخالفت

اسلام آباد (سٹی نیوز)امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد پاکستان اور چین نے افغانستان اور جنوبی ایشیاء سے متعلق طاقت کے استعمال کی امریکی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے مسئلے کے دیرینہ حل کرنے کے لیے سیاسی حل پر زور دیا ہے، یہ خبرایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی نائب وزیرخارجہ الائس ویلز نے پاکستان آنا تھا لیکن کا دورہ موخر کردیاگیاتاہم افغان صدر کے اعلان بعد پیداہونیوالی صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے افغانستان کیلئے چین کے خصوصی نمائندے ڈینگ ژی جنگ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر کے افغان پالیسی کے اعلان کے بعد سینئر چینی سفارتکار کا دورہ پاکستان اہمیت اختیار کرگیا ہے، اُنہوں نے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کیساتھ ملاقات کی اور افغانستان میں امن و استحکام کیلئے علاقائی اور عالمی سطح پر کی گئی کاوشوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق چینی سفیر نے اپنے ملک کی طرف سے یقین دہانی کرائی کہ وہ افغانستان میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کاوشوں کی حمایت کرتے ہیں تاہم واضح کیا کہ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں اور زوردیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے افغانستان کی اپنی قیادت میں ہی سیاسی بات چیت ضروری ہے، اس سے واضح ہوتاہے کہ پاکستان اور چین، افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی کے حامی نہیں۔
دوسری طرف امریکی میڈیا بھی نئی افغان پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنارہاہے کہ وہ افغانستان میں طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل کرناچاہتے ہیں جبکہ خطے میں چین، روس اور ایران جیسے ممالک کو نظرانداز کردیا ہے جو اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ملاقات کے دوران چینی سفیر نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو بھی سراہااور کہاہے کہ پاکستان کی قربانیوں کا عالمی سطح پر اعتراف ہوناچاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں