صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں تو گویا ایک نئی بلا ہمارے پیچھے پڑ گئی

واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی حکمران پہلے بھی کبھی پاکستان کے خیر خواہ نہیں رہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں تو گویا ایک نئی بلا ہمارے پیچھے پڑ گئی ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ افغانستان میں امریکا کے سابق سفیر اور بین الاقوامی امور کے ممتاز ماہر زلمے خلیل زاد کے اس بیان سے بخوبی کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران دیا۔
سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پیش رو صدور باراک اوبامہ اور جارج ڈبلیو بش سے بہت مختلف ہیں کیونکہ وہ پاکستان پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ صدر بش کے دور میں ا فغان سفیر کے فرائض سرانجام دینے والے زلمے خلیل زاد نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نہیں سمجھتا صدر بش یا صدر اوبامہ میں سے کسی نے بھی اتنے واضح اور تیکھے انداز میں اس بات پر توجہ مرکوز کی تھی کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانے ہیں، یا پاکستان افغانستان میں ہمارے ساتھ لڑنے والوں کیلئے پناہ گاہ کے طور پر کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
سابق امریکی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے کچھ ایسے حربے رکھتا ہے جنہیں بھی استعمال نہیں کیا گیا، جن میں سے ایک امداد بند کرنا بھی ہے۔ ہم کچھ لوگوں کو بلیک لسٹ میں ڈال سکتے ہیں، جیساکہ ہم روس یا ایران کے معاملے میں کرتے ہیں، تاکہ ان کی جانب سے طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشت گروپوں کو دی جانے والی حمایت اور امداد بند کی جاسکے۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اپنی نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا جس میں افغان جنگ میں امریکہ کی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’’پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف ایکشن لے اور خصوصاً افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے دہشتگردوں کے یہاں سے ٹھکانے ختم کئے جائیں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں