21 سالہ لڑکی کو کینسر کی تشخیص ہوتے ہی اس کا بوائے فرینڈ اسے چھوڑ کر چلا گیا تو اس نے کس چیز سے شادی رچالی؟ خوش رہنے کے لئے وہ کام کیا جو آج تک کوئی نہ کرسکا

بیجنگ(نیوز ڈیسک)کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلاء انسان کو سب کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسے مشکل وقت پر اپنے ہی ساتھ چھوڑ جائیں تو انسان کیا کرے۔چین سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ یانگ چنیان کو بھی ایک ایسے ہی المیے سے دوچار ہونا پڑ گیا۔وہ کسی بھی عام لڑکی کی طرح ایک خوبصورت لہنگا پہن کر شادی کے بندھن میں بندھنے کا خواب دیکھ رہی تھیں کہ گزشتہ ماہ ڈاکٹروں نے یہ ہولناک خبر سنا دی کہ وہ کینسر میں مبتلاء ہیں۔ یہ خبر ہی کچھ کم نا تھی کی اس سے بڑھ کر قیامت یانگ کے منگیتر نے ڈھا دی۔ کینسر کا پتا چلتے ہی وہ اسے چھوڑ کر رفوچکر ہو گیا۔

یانگ کے لئے یہ دہرا المیہ تھا۔ ایک جانب کینسر جیسی خوفناک بیماری اور اس پر بے وفائی کا گہرا صدمہ۔ انہی دنوں اس کی ایک کزن اس سے ملنے آئی تو یانگ نے اپنا دکھ اس سے بیان کیا۔ اس کی کزن نے اس کی مدد کرنے کی ٹھان لی اور اس مقصد کے لئے ایک فلاحی تنظیم زینشانمی والنٹئیر ایسوسی ایشن سے رابطہ کر لیا۔ جب اس تنظیم کو یانگ کی دکھی صورتحال کا علم ہو اتو انہوں نے اسے خوش کرنے کے لئے شادی کی ایک بڑی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ چانگ کنگ شہر کے وولونگ پیپلز ہسپتال کے مرکزی ہال میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں مہمانوں کی بڑی تعداد کو مدعو کیا گیا اور اس موقع پر ایک شاندار ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس تقریب میں دلہن تو تھی لیکن دولہا نہیں تھا کیونکہ یانگ نے خود سے ہی شادی کی تھی۔ ان کے لئے خوبصورت عروسی جوڑا تیار کیا گیا تھا اور انہیں ڈھیر سارے تحائف بھی دئیے گئے۔
یانگ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ہے کہ ان کے پاس زندگی کے چند ہی دن بچے ہیں۔ وہ اپنے منگیتر کی بے وفائی کے غم سے نجات پانے کے لئے شادی کرنا چاہتی تھیں لیکن دولہا نا ہونے کے باعث خود سے ہی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس موقع پر یانگ نے اعلان کیا کہ ان کی موت کے بعد ان کے اعضاء ضرورتمندوں کو عطیہ کر دئیے جائیں۔ شادی کے روایتی سرٹیفکیٹ پر دستخط کرنے کی بجائے انہوں نے اعضاء عطیہ کرنے کے لئے مخصوص فارم پر دستخط کئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں