آپ نے فلموں میں تو یہ منظر اکثر دیکھا ہوگا لیکن اگر دوران پرواز جہاز کا دروازہ واقعی کھل جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ جانئے وہ بات جو لوگوں کو معلوم نہیں

لندن(نیو زڈیسک) آپ نے فلموں میں اڑتے ہوائی جہاز کا دروازہ کھلتے دیکھا ہو گا، لیکن کیا حقیقت میں بھی ایسا ہو سکتا ہے؟ اول تو اس کا امکان بہت کم ہوتا ہے لیکن اگر ایسا ہو جائے تو پھر مت پوچھئے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ ویب سائٹ ’اے سیپ سائنس’ کے مطابق دوران پرواز ہوائی جہاز کا دروازہ کھل جانے کی صورت میں اس بات کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی زندہ بچ پائے۔ دراصل طیارے میں مصنوعی طور پر پریشرکو برقرار رکھا جاتا ہے اور دروازہ کھل جانے کی صورت میں اس کا اندرونی پریشر فوری طور پر ختم ہوجائے گا اور صرف آدھے سیکنڈ میں ہی تباہی کا آغاز ہوجائے گا۔
طیارے کے اندر اور باہر پریشر کے غیر معمولی فرق کی وجہ سے جو بھی چیز فکس یا جکڑی ہوئی حالت میں نہیں ہوگی وہ اُڑتی ہوئی باہر نکل جائے گی۔ اگر کسی نے سیٹ بیلٹ باندھ رکھی ہوگی تو وہ اُڑ کر باہر تو نہیں جائے گا البتہ کچھ ہی وقت میں اس کے لئے بھی صورتحال خطرے کی حد عبور کرجائے گی۔ طیارے کے اندر کا پریشر کم ہونے کے بعد مسافروں کے لئے نارمل طور پر سانس لینا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر مسافروں کو آکسیجن دستیاب ہوبھی تو یہ زیادہ سے زیادہ 10 منٹ کے لئے ہوگی اور اتنے وقت میں پائلٹ طیارے کو 8 سے 10ہزار فٹ نیچے لاسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے ہوائی جہاز کے دروازوں کا ڈیزائن اور حفاظتی انتظام اس طرح کا ہوتا ہے کہ ان کے کھلنے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں