ناخوش گوار ازدواجی زندگی ، علیحدگی اور طلاق کی وہ لکیریں جو ہاتھوں میں نمودار ہوجائیں تو انہیں کیسے بدلا جاسکتا ہے؟کنوارے بھی ان لکیروں کو دیکھ کر مشکلات سے بچ سکتے ہیں

لاہور(نظام الدولہ) پاکستان میں بھی طلاق اور علیحدگی کی شرح بڑھ چکی ہے۔کئی جوڑوں کے معاملات عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں اور کوئی خاموشی سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے۔اسکی وجوہات بہت سی ہوسکتی ہیں جس پر بحث جاری رہتی ہے اور ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہراکرطلاق اور علیحدگی کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔اسی لئے تو سیانے کہتے ہیں کہ شادی ایک جوّا ہے۔نہ جانے شادی کے بعد کس کو ازدواجی زندگی راس آئے اور کون اس بندھن کے باوجود ساری زندگی کڑھتا رہے ۔آپ کے لئے یہ بات انتہائی دلچسپی کا باعث ہوگی کہ شادی سے پہلے ہی ہاتھوں پر طلاق اور علیحدگی کی لکیریں موجود ہوتی ہیں ۔اگر انہیں پہلے دیکھ لیا جائے تو انسان اپنی ازدواجی زندگی میں ایسے معاملات یا رویہ سے گریز کرسکتا ہے جو اسکی ازدواجی زندگی کو انجام تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔یہ بالکل ایسی بات ہے کہ جیسے میڈیکل ٹیسٹ سے مرض کی جانب پیش قدمی کا علم ہوجاتا ہے تو احتیاط اس سے بچالیتی یا اسکی شدت کم کردیتی ہے۔

شادی کی لکیریں چھوٹی انگلی کے نیچے ہتھیلی کی باہر کی جانب سے نمودار ہوتیں اور عطارد کے ابھار کی جانب رخ کرتی ہیں،کچھ لکیریں طویل ہوکر کسی بھی جانب مڑسکتی ہیں ۔شادی کی لکیروں کا مڑنا،جھکنا،ٹوٹنا،ان کا کٹ جانا ،شاخوں میں بٹ جانا مختلف ازدواجی حالات کے بارے بتاتی ہیں۔
شادی کی لکیرجب دوشاخہ ہوجائے اور باقی لکیروں میں بھی نفاست موجود نہ ہوتو ایسے فرد کا شریک حیات کے ساتھ پھڈا ہی رہتا ہے اور ساری عمر تُوتُومیں میں گزرجاتی ہے۔شادی کی لکیر کو دوسری لکیر کاٹ ڈالے تو اسے طلاق کی علامت کہتے ہیں۔اگر شادی کی لکیرجھک کر دل اور دماغ کی لکیر تک پہنچ جائے تو اسکو بھی طلاق یا رنڈوا ہونے کی نشانی قراردیا جاتا ہے۔
شادی کی لکیر آخر میں اسطرح دوشاخہ ہو جائے کہ ایک لکیر دل کی لکیر کی جانب جھک جائے تو یہ طلاق کے بغیر علیحدگی کی علامت ہے۔بسا اوقات ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی میاں بیوی جدا جدا زندگی گزارتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں